امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بڑا یوٹرن لے لیا، ایران پرمسلط جنگ ختم کرنے سے انکار

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بڑا یوٹرن لے لیا، ایران پرمسلط جنگ ختم کرنے سے انکار

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری جنگ کے حوالے سے اپنے سابقہ بیان سے یوٹرن لیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا جنگ میں برتری حاصل کر چکا ہے لیکن فوری طور پر اس تنازع سے نکلنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔

جوائنٹ بیس اینڈریوز پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکا کی کارروائیاں انتہائی مؤثر ثابت ہو رہی ہیں اور موجودہ صورتحال میں امریکا بہت مضبوط پوزیشن میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی بحریہ، فضائیہ اور کئی اہم کنٹرول سسٹمز تقریباً ناکارہ ہو چکے ہیں جس کے باعث امریکی افواج کو ایران میں کارروائیوں کے لیے کھلی گنجائش حاصل ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:روسی صدر پیوٹن کا ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کا مشورہ

ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اس جنگ کو جلد اور فیصلہ کن انداز میں جیتنا چاہتا ہے تاکہ ایران دوبارہ اپنی فوجی اور بنیادی ڈھانچے کی صلاحیتیں بحال نہ کر سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے پاس ایران کے اہم انفراسٹرکچر کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے مگر ایسا قدم اس وقت نہیں اٹھایا جا رہا کیونکہ اس سے ملک کی دوبارہ تعمیر تقریباً ناممکن ہو سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کا مقصد صرف جنگ جیتنا نہیں بلکہ خطے میں ایسا توازن قائم کرنا ہے جس سے مستقبل میں ایران کسی بڑے فوجی خطرے کے طور پر دوبارہ سامنے نہ آئے۔

امریکی صدر نے اپنے خطاب میں سابق امریکی صدور کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ کینٹکی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے سابق صدر براک اوباما اور جوبائیڈن کی پالیسیوں کو ناکام قرار دیا۔

ٹرمپ نے کہا کہ افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا امریکی تاریخ کا سب سے زیادہ شرمناک لمحہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے دوران اربوں ڈالر کا فوجی سازوسامان افغانستان میں چھوڑ دیا گیا جو ایک سنگین غلطی تھی۔

انہوں نے جوبائیڈن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکی فوجی قیادت کو کبھی بھی اتنی بڑی مقدار میں سامان پیچھے نہیں چھوڑنا چاہیے تھا۔ ان کے مطابق امریکی فوج ہمیشہ اپنی طاقت اور وقار کے ساتھ کارروائی کرتی ہے اور ایسا منظر کبھی دیکھنے میں نہیں آیا تھا۔

مزید پڑھیں:نیا ایرانی سپریم لیڈر ہماری منظوری کے بغیر زیادہ عرصہ نہیں چل سکے گا،ڈونلڈ ٹرمپ

ٹرمپ نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ تقریباً ڈیڑھ سو ملین ڈالر مالیت کا ایک طیارہ وہاں موجود تھا جسے صرف تھوڑا سا ایندھن بھر کر آسانی سے اڑایا جا سکتا تھا لیکن اسے بھی وہیں چھوڑ دیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بگرام ایئر بیس جیسا اہم فوجی اڈہ بھی چھوڑ دیا گیا حالانکہ یہ جغرافیائی لحاظ سے انتہائی اہم مقام پر واقع تھا۔ ان کے مطابق اس اڈے کو امریکا کے پاس رہنا چاہیے تھا کیونکہ یہ چین کے جوہری ٹھکانوں کے قریب واقع ہے اور اس سے خطے میں امریکا کو اسٹریٹجک برتری حاصل رہ سکتی تھی۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کو افغانستان سے وقار اور طاقت کے ساتھ نکلنا چاہیے تھا نہ کہ اس انداز میں جیسے کوئی ملک خوف کے باعث جلدی میں فرار ہو رہا ہو۔

سیاسی مبصرین کے مطابق امریکی صدر کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی جلد ختم ہونے کے آثار کم ہیں اور واشنگٹن اپنی فوجی برتری کو برقرار رکھتے ہوئے خطے میں دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی اسی طرح برقرار رہی تو اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست اور معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *