آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے مارچ کے مہینے کے لیے درآمدی ایل این جی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے اور اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
اوگرا کے مطابق سوئی نادرن کے صارفین کے لیے درآمدی ایل این جی کی فی ایم ایم بی ٹی یو قیمت میں 2.22 ڈالر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 13.55 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر ہو گئی ہے۔
اسی طرح سوئی سدرن کے صارفین کے لیے درآمدی ایل این جی کی فی ایم ایم بی ٹی یو قیمت میں 2.26 ڈالر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 12.53 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کر دی گئی ہے۔
اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ درآمدی گیس کی قیمتوں میں اضافے کا اطلاق مارچ کے مہینے کے لیے کیا جائے گا۔
دریں اثنا وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کا عندیہ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کی ہدایات پر حکومت بچت اور کفایت شعاری کی پالیسی پر عمل کر رہی ہے، تاہم آنے والے دنوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔
دوسری جانب وزیر پٹرولیم نے سینیٹ کمیٹی میں گفتگو کرتے ہوئے پٹرول کی قیمت میں اضافے سے متعلق کہا کہ پاکستان میں پیٹرول درآمد کرنے میں تقریباً 20 دن لگتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر قیمت فوری نہ بڑھائی جاتی تو کمپنیوں کے لیے فیول درآمد کرنا ممکن نہ ہوتا اور ملک میں فیول ڈرائی آؤٹ کی صورتحال پیدا ہو سکتی تھی۔
وزیر پٹرولیم کا کہنا تھا کہ بنگلا دیش میں اس طرح کے حالات کے باعث ہنگامے شروع ہو گئے تھے، جبکہ بھارت اب تک فیول پر سبسڈی فراہم کر رہا ہے۔