افغانستان میں پاک فضائیہ نے کابل، خوست، پکتیا اور قندھار میں دہشت گردوں کے زیرِ انتظام اہم تربیتی مراکز کو بمباری کے ذریعے نشانہ بنایا۔
ذرائع کے مطابق یہ مراکز طالبان رجیم نے کالعدم دہشت گرد تنظیموں جیسے ٹی ٹی پی، القاعدہ، داعش، بی ایل اے، گل بہادر گروپ اور دیگر کے اہم کمانڈرز اور جنگجوؤں کے لیے پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیے تھے۔
یہ مراکز پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی کے لیے بھی استعمال ہو رہے تھے۔ قندھار میں حملوں کے بعد قندھار ایئرپورٹ اور قریبی عسکری تنصیبات میں شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور فضا دھماکوں سے گونج اٹھی۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان کیلئے امریکہ کا سفری انتباہ، انتہاپسند پالیسیوں کے باعث طالبان رجیم عالمی تنہائی کا شکار
دارالحکومت کابل میں بھی شدید دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جہاں افواجِ پاکستان نے پل چرخی بریگیڈ ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا۔ حملوں کے نتیجے میں طالبان کے متعدد ٹھکانے شدید نقصان کا شکار ہوئے اور کئی دہشت گرد ہلاک و زخمی ہوئے۔
پاک فضائیہ کے حملوں میں طالبان کے متعدد ٹھکانے اور عسکری تنصیبات تباہ کر دی گئی ہیں۔ مقامی ذرائع کی شیئر کردہ ویڈیوز میں تباہ شدہ ٹھکانوں کے واضح مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔ افغانستان کے صوبہ پکتیا کے علاقے چمکنی میں طالبان کے فوجی کیمپ کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کیمپ مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔
🚨بریکنگ نیوز
قندھار ایئرپورٹ پر بڑا حملہ، ابتدائی اطلاعات کے مطابق افغانستان کے شہر قندھار کا ایئرپورٹ زوردار دھماکوں سے لرز اٹھا۔۔۔۔ pic.twitter.com/ilSV977WpC— Azaad Urdu (@azaad_urdu) March 12, 2026

