ایرانی فوج کے مرکزی ہیڈ کوارٹرز نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کی توانائی تنصیبات یا بندرگاہوں پر معمولی سا بھی حملہ ہوا تو اس کا سخت اور تباہ کن جواب دیا جائے گا۔
ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی فوج کے مرکزی ہیڈ کوارٹرز کے ترجمان نے کہا کہ ایسی کسی کارروائی کی صورت میں خطے میں موجود تیل و گیس کے تمام اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، خصوصاً وہ تنصیبات جن میں امریکا اور اس کے مغربی اتحادیوں کے مفادات وابستہ ہیں۔
ایران نے خبردار کیا ہے کہ حملے کی صورت میں پورے خطے میں تیل و گیس کے مراکز کو آگ لگا کر تباہ کیا جا سکتا ہے۔
قبل ازیں سیکرٹری ایرانی قومی سلامتی کونسل علی لاریجانی نے بھی کہا تھا کہ ایران کی بجلی تنصیبات پر حملہ ہوا تو پورا خطہ آدھے گھنٹے میں اندھیرے میں ڈوب جائے گا، اندھیرے کی صورت میں امریکی فوجیوں کیلئے حالات مزید خطرناک ہو جائیں گے۔
قبل ازیں ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے پہلے آڈیو پیغام میں کہا کہ آبنائے ہرمز بند رہے گی، امریکی اڈے بند نہ ہوئے تو حملے جاری رہیں گے، ہم صرف فوجی اڈوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور یہ ناگزیر طور پر جاری رکھیں گے۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی توانائی صلاحیت ایک گھنٹے میں تباہ کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ایران نے عالمی تیل سپلائی روکی تو بجلی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تہران شکست کے دہانے پر پہنچ چکا ہے، انہوں نے اپنے بیانات میں کہا کہ امریکہ ایران کے خلاف جنگ میں انتہائی مستحکم پوزیشن میں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی پہلو اپنی فضائی اور بحری دونوں افواج سے محروم ہو چکا ہے اور تہران کے پاس اب کوئی اینٹی ایئر کرافٹ سسٹم باقی نہیں بچا۔