قومی کرکٹ ٹیم کی سلیکشن کمیٹی کے رکن عاقب جاوید نے کہا ہے کہ قومی ٹیم کا انتخاب کسی ایک فرد کا فیصلہ نہیں ہوتا بلکہ یہ عمل سلیکشن کمیٹی، کوچ اور کپتان کی مشاورت سے مکمل کیا جاتا ہے تاکہ ٹیم کے لیے بہترین کھلاڑیوں کا انتخاب کیا جا سکے۔
یہ بات انہوں نے قذافی اسٹیڈیم میں سلیکشن کمیٹی کے دیگر ارکان مصباح الحق، سرفراز احمد اور اسد شفیق کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہی۔
عاقب جاوید نے کہا کہ سلیکشن کا عمل ایک اجتماعی ذمہ داری ہے جس میں کھلاڑیوں کی حالیہ کارکردگی، فٹنس، ٹیم کمبینیشن اور مستقبل کی حکمت عملی کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی ٹیم کے انتخاب میں میرٹ کو ہمیشہ اولین ترجیح دی جاتی ہے۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ حالیہ ٹی 20 عالمی کپ میں ٹیم توقعات کے مطابق کارکردگی دکھانے میں کامیاب نہیں ہو سکی، تاہم مجموعی طور پر ٹیم نے کئی مواقع پر بہتر کھیل بھی پیش کیا۔ ان کے مطابق چند اہم میچوں کے نتائج ٹیم کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئے۔
عاقب جاوید نے کہا کہ بھارت کے خلاف شکست ہمیشہ تکلیف دہ ہوتی ہے کیونکہ دونوں ٹیموں کے درمیان مقابلہ انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم نے سپر 8 مرحلے میں صرف 1 میچ ہارا جبکہ 1 میچ بارش کی نذر ہو گیا، جس کے بعد رن ریٹ کی بنیاد پر ٹیم ایونٹ سے باہر ہو گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ سری لنکا کے خلاف میچ میں پچ کی صورتحال ایسی تھی کہ کسی بھی ٹیم کے لیے کم اسکور پر آؤٹ ہونا تقریباً ناممکن تھا۔ ان کے مطابق اس میچ میں پچ بلے بازوں کے لیے سازگار تھی جس کے باعث مقابلہ زیادہ یکطرفہ دکھائی دیا۔
عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ گزشتہ کچھ عرصے میں پاکستان ٹیم کی کارکردگی میں واضح بہتری آئی ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے جنوبی افریقا کو ان کے اپنے ملک میں شکست دی جبکہ آسٹریلیا کو بھی آسٹریلیا میں ہرا کر اہم کامیابی حاصل کی۔
انہوں نے بتایا کہ بنگلادیش کے خلاف سیریز میں کسی کھلاڑی کو مستقل طور پر ڈراپ نہیں کیا گیا بلکہ کچھ سینیئر کھلاڑیوں کو آرام دے کر نئے کھلاڑیوں کو موقع دیا گیا ہے تاکہ مستقبل کے لیے بینچ اسٹرینتھ تیار کی جا سکے۔
عاقب جاوید نے کہا کہ بابر اعظم، فخر زمان اور سلمان مرزا اس وقت مکمل طور پر فٹ نہیں ہیں اور ان کی واپسی فٹنس بہتر ہونے کے بعد متوقع ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں ماضی جیسے لیجنڈ بولرز کم نظر آتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وسیم اکرم اور وقار یونس جیسے بولرز دوبارہ پیدا ہونا آسان نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ دور میں صرف جسپریت بمراہ ایسا بولر ہے جسے کھیلنا واقعی مشکل سمجھا جاتا ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران سرفراز احمد نے کہا کہ ٹیم کے پاس وکٹ کیپنگ کے لیے 2 سے 3 مضبوط آپشنز موجود ہیں اور سلیکشن کمیٹی نوجوان کھلاڑیوں کو آئندہ سیزن میں مزید مواقع دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئے کھلاڑیوں کو موقع دینے کا مقصد یہ ہے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر تجربہ حاصل کریں اور مستقبل میں قومی ٹیم کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے قابل بن سکیں۔ اگر نوجوان کھلاڑیوں کو مسلسل مواقع دیے جائیں تو پاکستان ٹیم آنے والے عالمی مقابلوں میں زیادہ مضبوط ہو سکتی ہے اور ٹیم میں مسابقت کا ماحول بھی بہتر ہو گا۔