معروف اینکر اور یوٹیوبر منیب فاروق نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر بعض حلقے ایک مخصوص بیانیہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں عمران خان کو غیر معمولی اور ناقابل شکست رہنما کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
منیب فاروق نے اپنے تازہ وی لاگ میں انکشاف کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر جبران الیاس جیسے کرداروں کے ذریعے عمران خان کو ایک ایسے رہنما کے طور پر دکھایا جا رہا ہے جس کے آگے خدانخواسہ تمام سیاسی قوتیں جھک چکی ہیں اور ہر روز ان سے مفاہمت (مان جاؤ) کی درخواستیں کی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق یہ تاثر حقیقت پر مبنی نہیں بلکہ ایک منظم بیانیے کا حصہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:عمران خان سزایافتہ شخص ہیں، ریلیف چھوڑیں ان کو مزید کیسزمیں سزائیں ہونگی، سینئر اینکرمنیب فاروق
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر جبران الیاس جیسے بعض افراد عمران خان کو ایک طاقتور اور ناقابل شکست کردار کے طور پر پیش کرتے ہیں اور انہیں غیر حقیقی انداز میں ’ہلک‘ یا ’ہی مین‘ جیسے کرداروں سے تشبیہ دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے بیانیے عوامی رائے کو متاثر کرنے کی کوشش ہوتے ہیں۔
منیب فاروق کے مطابق درحقیقت موجودہ سیاسی صورتحال اس بیانیے سے بالکل مختلف ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی سیاسی مشکلات میں ان کے اردگرد موجود کچھ افراد اور وہ لوگ ہی شامل رہے ہیں جنہوں نے ماضی میں ان کی حمایت کی لیکن بعد میں سیاسی میدان چھوڑ کر بیرون ملک چلے گئے۔
سچ تو یہ ہے کہ عمران خان کا رگڑا نکلوانے اور ان کا بیڑہ غرق کرنے میں یہی بھگوڑے اور ’اہلِ یوتھ‘ کی سیاست کرنے والے لوگ شامل ہیں جنہوں نے انہیں اس مقام تک پہنچایا ہے
انہوں نے کہا کہ بعض افراد نے سوشل میڈیا پرانتہائی جارحانہ اور غیر ذمہ دارانہ سیاست کو فروغ دیا جس کے نتیجے میں سیاسی ماحول مزید کشیدہ ہوا اور اس کا نقصان خود عمران خان کو بھی اٹھانا پڑا۔
مزید پڑھیں:میڈیا پر چلنے والی قیاس آرائیاں بے بنیاد، حکومت یا اسٹیبلشمنٹ کی پی ٹی آئی کے لیے کوئی آفر یا ڈیل ٹیبل پر موجود نہیں، سینئر اینکر منیب فاروق
منیب فاروق نے اپنے وی لاگ میں کہا کہ سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کو حقیقت پسندانہ سیاست پر توجہ دینی چاہیے اور سوشل میڈیا کے مصنوعی بیانیوں کے بجائے زمینی حقائق کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سیاست میں بیانیہ سازی ایک اہم عنصر بن چکی ہے اور مختلف سیاسی گروہ اپنے اپنے مؤقف کو مضبوط بنانے کے لیے سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ سوشل میڈیا کے دور میں سیاسی بیانیے تیزی سے تشکیل پاتے ہیں اور عوامی رائے پر گہرا اثر ڈالتے ہیں، تاہم یہ ضروری ہے کہ سیاسی تجزیے اور اطلاعات حقیقت اور تحقیق پر مبنی ہوں۔