حکومت نے مٹی کے تیل کی فی لیٹر قیمت میں اضافہ کردیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 358 روپے ایک پیسہ فی لیٹر مقرر کی گئی ہے،، جو کہ پہلے 318 روپے 81 پیسے فی لیٹر تھی۔
اس فیصلے کے تحت پیٹرول اور ڈیزل پر بھی پٹرولیم لیوی برقرار رکھی جائے گی تاکہ ملک کی آمدنی میں استحکام برقرار رہے۔وفاقی حکومت کے اعلان کے مطابق پیٹرول پر فی لیٹر لیوی105روپے37 پیسے اور ڈیزل پر55 روپے54پیسے برقرار رکھی گئی ہے۔
وزارت توانائی نے بتایا کہ عالمی سطح پر مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھی پچپن روپے فی لیٹر اضافہ کیا ہے، تاہم عوام کو سہولت دینے کے لیے اصل قیمتیں برقرار رکھی گئی ہیں اور سبسڈی کا اعلان کیا گیا ہے۔
سبسڈی کے تحت، پیٹرول پر فی لیٹر49 روپے3 پیسے جبکہ ڈیزل پر فی لیٹر75 روپے5 پیسے ادا کیے جائیں گے۔ یہ سبسڈی14 مارچ سے20 مارچ تک لاگو ہوگی اور اس کا کل تخمینہ تینتیس ارب روپے ہے۔
وزارت توانائی نے واضح کیا کہ یہ رقم آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو پرائس ڈیفرینشل کلیمز کے ذریعے دی جائے گی اور اوگرا اس ادائیگی کا عمل مکمل کرے گا۔ وزارت توانائی نے بتایا کہ وزیراعظم کی منظوری سے کابینہ نے کفایت شعاری فنڈ قائم کر دیا ہے۔ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے اس فنڈ میں27 ارب دس کروڑ روپے منتقل کرنے کی منظوری دی ہے۔
پرائس ڈیفرینشل کی ادائیگی کے طریقہ کار میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں سے موصول ہونے والے بلوں کی تصدیق اور آڈٹ کا عمل بھی شامل ہوگا تاکہ سبسڈی کے شفاف اور درست نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔
حکومت نے اس فیصلے کے ذریعے عوام کو مالی بوجھ سے بچانے اور تیل کی قیمتوں میں عالمی اثرات کے باوجود استحکام برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔ عوام سے توقع ہے کہ وہ اس دوران اپنی توانائی کے استعمال میں کفایت شعاری کریں تاکہ ملک کے وسائل مؤثر طریقے سے استعمال ہوں۔