ایران جنگ کی کوریج پرامریکا میں نیا تنازع شدت اختیار کرگیا‘، نشریاتی اداروں کو لائسنس منسوخی کی دھمکی

ایران جنگ کی کوریج پرامریکا میں نیا تنازع شدت اختیار کرگیا‘، نشریاتی اداروں کو لائسنس منسوخی کی دھمکی

امریکا میں ایران جنگ کی میڈیا کوریج کے معاملے پر ایک نیا اور شدید سیاسی تنازع سامنے آ گیا ہے۔ امریکی مواصلاتی ریگولیٹری ادارے کے سربراہ ’برینڈن کار‘ نے نشریاتی اداروں کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ ایران جنگ سے متعلق’جعلی خبریں‘ یا گمراہ کن رپورٹنگ نشر کرتے رہے تو ان کے براڈکاسٹنگ لائسنس منسوخ کیے جا سکتے ہیں۔

امریکی فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن کے چیئرمین برینڈن کار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ نشریاتی اداروں کو اپنے طرز عمل میں تبدیلی لانے کا موقع دیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق امریکی قانون کے تحت براڈکاسٹرز پر لازم ہے کہ وہ عوامی مفاد کے مطابق کام کریں، اور اگر کوئی ادارہ اس اصول کی خلاف ورزی کرے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:متحدہ عرب امارات میں سوشل میڈیا پر ملکی سلامتی کیخلاف مواد اَپ لوڈ کرنے پر17 بھارتیوں سمیت 25 افراد گرفتار

برینڈن کار نے اپنے بیان کے ساتھ امریکی صدر ’ڈونلڈ ٹرمپ‘ کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ کا اسکرین شاٹ بھی شیئر کیا جس میں صدر نے ایران جنگ کی کوریج پر روایتی میڈیا کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ٹرمپ نے بعض اخبارات کو ’لو لائف میڈیا‘ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ان کی رپورٹنگ امریکا کو جنگ میں ناکام ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

صدر ٹرمپ نے خاص طور پر چند بڑے میڈیا اداروں کی رپورٹنگ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ کچھ اخبارات اور ٹی وی چینلز خلیج میں امریکی فوجی اڈے پر حملے سے متعلق خبروں کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس طرح کی رپورٹنگ نہ صرف گمراہ کن ہے بلکہ امریکی عوام کو غلط معلومات فراہم کرتی ہے۔

اس بیان کے بعد امریکی سیاستدانوں، صحافتی تنظیموں اور اظہارِ رائے کی آزادی کے حامی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ ریاست کیلیفورنیا کے گورنر ’گیون نیوزوم‘ نے کہا کہ اگر کسی جنگ کی کوریج پسند نہ آنے کی بنیاد پر نشریاتی اداروں کے لائسنس منسوخ کیے جاتے ہیں تو یہ آئین اور جمہوری اصولوں کے منافی اقدام ہوگا۔

اسی طرح امریکی سینیٹر ’برائن شاٹز‘ نے بھی اس معاملے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیان دراصل میڈیا اداروں کو ایک واضح پیغام دے رہا ہے کہ اگر وہ جنگ کے بارے میں حکومتی مؤقف کے مطابق مثبت رپورٹنگ نہ کریں تو ان کے لائسنس خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔

اظہارِ رائے کی آزادی کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’فاؤنڈیشن فار انڈیویجول رائٹس اینڈ ایکسپریشن‘ کے قانونی ڈائریکٹر ’ول کریلی‘ نے بھی اس صورتحال کو تشویشناک قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت میڈیا اداروں کو دھمکی دے کر اپنی مرضی کی رپورٹنگ کروانے کی کوشش کرے تو یہ جمہوری اقدار اور آزادی صحافت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔

مزید پڑھیں:امریکا میں آزادیٔ اظہارِ رائے کو سنگین خطرات لاحق ہیں، انجلینا جولی

یہ تنازع ایسے وقت سامنے آیا ہے جب گزشتہ ماہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ جنگی صورتحال کے باعث امریکا میں میڈیا کی کوریج اور حکومتی مؤقف کے درمیان تناؤ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔

دوسری جانب معروف امریکی نیوز چینل کے سربراہ ’مارک تھامسن‘ نے حکومتی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ادارہ اپنی صحافتی ذمہ داریوں پر قائم رہے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیاسی دباؤ یا دھمکیوں کے باوجود ان کا ادارہ اپنے ناظرین کو درست اور مستند معلومات فراہم کرنے کے عزم پر قائم ہے۔

واضح رہے کہ ایران جنگ کی کوریج پر پیدا ہونے والا یہ تنازع امریکا میں آزادی صحافت، حکومتی اختیار اور میڈیا کے کردار کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے، جس کے اثرات آئندہ دنوں میں امریکی سیاست اور میڈیا پالیسی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *