ایران کا اسرائیل اور امریکی اہداف پر پہلی مرتبہ ‘سجیل’ میزائلوں سے حملہ، جنگ میں نئی شدت

ایران کا اسرائیل اور امریکی اہداف پر پہلی مرتبہ ‘سجیل’ میزائلوں سے حملہ، جنگ میں نئی شدت

ایرانی مسلح افواج نے اسرائیل اور امریکی اہداف کے خلاف جاری “معرکہ وعدہ صادق 4” کی 54ویں لہر کا آغاز کر دیا ہے۔ اس تازہ ترین عسکری کارروائی کی سب سے اہم خصوصیت طویل فاصلے تک مار کرنے والے “سجیل” میزائلوں کا پہلا باضابطہ استعمال ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ یہ جوابی کارروائی “یا زہرا” کے آپریشن کوڈ کے تحت انجام دی گئی ہے۔ اس لہر میں ایران نے اپنے میزائلوں کے وسیع ذخیرے کا استعمال کیا، جن میں درج ذیل مہلک ہتھیار شامل ہیں:

سجیل میزائل: ٹھوس ایندھن سے چلنے والا یہ جدید میزائل پہلی بار 28 فروری سے جاری جنگ میں استعمال کیا گیا ہے۔ خرم شہر میزائل: دوہری وار ہیڈ والے یہ سپر ہیوی میزائل اپنی تباہ کن صلاحیت کے لیے مشہور ہیں۔

خیبر، قدر اور عماد: ان میزائلوں کے ذریعے دشمن کے دفاعی نظام کو الجھانے اور نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ ایرانی حکام کے مطابق، سجیل میزائلوں کے ذریعے خاص طور پر اسرائیلی حکومت کے کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز اور اہم فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

پاسدارانِ انقلاب کی ایرو اسپیس فورس کے کمانڈر، بریگیڈیئر جنرل مجید موسوی نے اپنے سرکاری بیان میں ان حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے اسے دشمن کی جارحیت کا منہ توڑ جواب قرار دیا ہے۔

دوسری جانب دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ سجیل میزائل کا میدانِ جنگ میں آنا صورتحال کو مزید سنگین بنا سکتا ہے کیونکہ: اس ایندھن کی وجہ سے میزائل کو لانچ کرنے کی تیاری میں بہت کم وقت لگتا ہے، جس سے دشمن کے لیے اسے فائر ہونے سے پہلے تباہ کرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔

یہ میزائل اسرائیل کے کسی بھی کونے اور خطے میں موجود تمام امریکی اڈوں کو آسانی سے نشانہ بنا سکتا ہے۔ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ ان میزائلوں کی رفتار اور ٹیکنالوجی کی وجہ سے موجودہ اینٹی میزائل سسٹم انہیں روکنے میں ناکام رہے ہیں۔

ایران مسلسل جوابی لہروں کے ذریعے دشمن کی عسکری اور معاشی تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے، اور اب سجیل میزائلوں کا استعمال اس جنگ کو ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں لے گیا ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *