پاکستان میں سولر پاور کا بڑھتا رجحان، مہنگائی کی عالمی لہر کے خلاف مضبوط ڈھال

پاکستان میں سولر پاور کا بڑھتا رجحان، مہنگائی کی عالمی لہر کے خلاف مضبوط ڈھال

پاکستان میں سولر پاور کے بڑھتے رجحان نے ملک کو مشرق وسطی میں جاری جنگ کے سنگین معاشی اثرات سے بڑی حد تک محفوظ بنا دیا ہے۔

غیر ملکی جریدے بلوم برگ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں سولر پاور کے بڑھتے ہوئے رجحان نے ملک کو مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے سنگین معاشی اثرات سے بڑی حد تک محفوظ کر دیا ہے۔

تاریخی طور پر توانائی کی درآمدات پر انحصار کرنے والا پاکستان، جو اکثر “انرجی شاکس” کا شکار رہتا تھا، اب تیزی سے متبادل توانائی کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ تکنیکی ماہرین کا کہنا ہے کہ رواں سال پاکستان مہنگا تیل اور گیس خریدنے کے بجائے سولر انرجی کی بدولت تقریباً 6.3 ارب ڈالرز کی خطیر رقم بچانے میں کامیاب رہے گا۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث پاکستانی حکومت پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لٹر تک اضافہ کر چکی ہے، جو کہ عوام کے لیے پہلے ہی ایک بڑا بوجھ ہے۔ تاہم، بلوم برگ کے مطابق اگر ملک میں سولر پاور کا یہ بڑے پیمانے پر پھیلاؤ نہ ہوتا، تو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اس سے کہیں زیادہ بلند سطح پر ہوتیں۔

سولر انرجی نے نہ صرف درآمدی ایندھن پر دباؤ کم کیا ہے بلکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اتار چڑھاؤ کے براہِ راست اثرات سے بھی ملکی معیشت کو ایک حفاظتی حصار فراہم کیا ہے۔

یہ تبدیلی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستانی صارفین اور صنعتیں اب مہنگی بجلی اور غیر یقینی عالمی حالات سے بچنے کے لیے سورج کی روشنی پر بھروسہ کر رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر سولر انرجی کو مزید فروغ دیا جائے تو پاکستان مستقبل میں عالمی توانائی کے بحرانوں سے مکمل طور پر نبرد آزما ہونے کی صلاحیت پیدا کر سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: مفت سولر اسکیم میں درخواست دینے والوں کے لیے اہم خبر

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *