قومی کرکٹرز سے مبینہ فراڈ کے معاملے پر پاکستانی لیگ اسپنر اسامہ میر سامنے آ گئے اور اپنے ساتھ ہونے والی دھوکہ دہی کی تفصیلات بیان کر دیں۔
تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے اسامہ میر نے بتایا کہ عبدالرحمان نامی شخص نے انہیں سرمایہ کاری کے نام پر دھوکہ دیا، جس پر وہ سیالکوٹ واپس پہنچ کر قانونی کارروائی کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ انصاف کے حصول کے لیے ہر دروازہ کھٹکھٹائیں گے اور متعلقہ اداروں سے بھی تعاون کی اپیل کریں گے۔
اسامہ میر کے مطابق انہوں نے مجموعی طور پر 8 لاکھ درہم کی سرمایہ کاری کی، تاہم نہ تو انہیں منافع دیا گیا اور نہ ہی اصل رقم واپس کی گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس تمام دستاویزی ثبوت اور پیغامات کا ریکارڈ موجود ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ گارنٹی کے طور پر دیے گئے پلاٹس کے کاغذات بھی جعلی نکلے جبکہ ملزم اور اس کے ساتھی مسلسل جھوٹے وعدے کرتے رہے اور اب رابطہ بھی منقطع کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق کمپنی کے مالک نے پارٹنرشپ کا جھانسہ دے کر کئی قومی کرکٹرز سے کروڑوں روپے بٹورے ہیں۔ اسامہ میر اس معاملے پر کھل کر سامنے آنے والے واحد کرکٹر ہیں جبکہ دیگر متاثرین تاحال خاموش ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ معاملہ منظرعام پر لانے سے ان کا مالی نقصان مزید بڑھ سکتا ہے۔
واقعے کے بعد کرکٹ حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹنر شپ کا جھانسہ دے کر کمپنی کا مالک کھلاڑیوں کا کروڑوں روپےلے اڑا ہے۔ اسامہ میر سمیت پاکستان کے کئی سرکردہ کرکٹرز شامل ہیں۔ اسامہ میر واحد کرکٹر ہیں جو فراڈ کے حوالے سے سامنے آئے ہیں بیشتر کرکٹرز کو خدشہ ہے کہ معاملہ سامنے لانے سے ان کے کروڑوں روپے ڈوب سکتے ہیں