کالعدم ایکشن کمیٹی سے وابستہ شرپسندوں کے شناختی کارڈز، پاسپورٹ،بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے اور نام ای سی ایل میں ڈالنے کا فیصلہ

کالعدم ایکشن کمیٹی سے وابستہ شرپسندوں کے شناختی کارڈز، پاسپورٹ،بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے اور نام ای سی ایل میں ڈالنے کا فیصلہ

حکومت آزاد کشمیر نے کالعدم آزاد جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے وابستہ افراد اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کر لیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق کالعدم ایکشن کمیٹی سے وابستہ افراد کے شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور بینک اکاؤنٹس منجمد کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ ان افراد کی مختلف شہروں میں موجود جائیدادوں کی تفصیلات بھی طلب کر لی گئی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق 5 جون 2026 کو آزاد جموں و کشمیر کے محکمہ داخلہ نے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم تنظیم قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

آزاد کشمیر کے محکمہ داخلہ کی جانب سے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے کور کمیٹی ارکان اور فعال کارکنوں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کرنے کے لیے متعلقہ حکام کو درخواست بھی ارسال کر دی گئی ہے۔

اس سے قبل آزاد کشمیر میں سرگرم جموں کشمیر ایکشن کمیٹی اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے نام سے کام کرنے والی مختلف تنظیموں کو بھی فرسٹ شیڈول میں شامل کیا جا چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: برطانوی سرزمیں پر پاکستان کا فخریہ علم بلند! پاکستان آرمی نے دنیا کی ٹیموں کو شکست دے کر پہلی پوزیشن حاصل کرلی

ذرائع کے مطابق وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور اس سے قبل خبردار کر چکے ہیں کہ ریاستی رٹ قائم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، اور اگر کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی اپنی سرگرمیوں سے باز نہ آئی تو ریاست قانون کے مطابق اپنا راستہ اختیار کرے گی۔

فیصل ممتاز راٹھور نے یہ بھی کہا تھا کہ مذاکرات کے لیے حکومت کے دروازے کھلے ہیں، تاہم خواتین اور بچوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرنا غیر سنجیدہ اور انتہائی نامناسب طرزِ عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین اور بچوں کو تحفظ فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور ریاست انہیں مکمل تحفظ فراہم کرے گی۔

Related Articles