جے شنکر کے پاکستان مخالف غیر مہذب بیان پر بھارت میں کڑی تنقید،مودی حکومت کی سفارتی ناکامی بے نقاب

جے شنکر کے پاکستان مخالف غیر مہذب بیان پر بھارت میں کڑی تنقید،مودی حکومت کی سفارتی ناکامی بے نقاب

بھارتی وزیرِ خارجہ جے شنکر کے پاکستان مخالف حالیہ غیر مہذب بیان نے بھارت کے اندر ہی شدید سیاسی و عوامی ردعمل کو جنم دے دیا ہے، جہاں اپوزیشن جماعتوں، تجزیہ نگاروں اور عالمی مبصرین نے اس بیان کو سفارتی آداب کے منافی قرار دیتے ہوئے حکومت کی خارجہ پالیسی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان خطے میں اہم سفارتی سرگرمیوں، بالخصوص امریکہ اور ایران کے درمیان روابط میں فعال کردار ادا کر رہا ہے ، اس صورتحال میں بھارتی وزیرِ خارجہ کا سخت اور غیر سفارتی لہجہ بھارت کی کمزور سفارتی پوزیشن کی عکاسی کرتا ہے۔

بھارتی اپوزیشن جماعت انڈین نیشنل کانگریس کے رہنماؤں نے اس بیان پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، ترجمان ڈاکٹر شمّع محمد نے اسے کھلی سفارتی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے منتخب ہونا اور بھارت کا اس عمل سے باہر رہنا نریندر مودی حکومت کی پالیسیوں کی ناکامی ہے۔

اسی طرح کانگریس کی رہنما سپریا شری نیتے نے روس اور یوکرین کے درمیان ثالثی سے متعلق بھارتی دعوؤں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر بھارت واقعی امن کا داعی ہے تو اس کے حالیہ بیانات اس دعوے سے مطابقت کیوں نہیں رکھتے۔

یہ بھی پڑھیں :جے شنکر اور اجیت ڈوول کا دورہ روس شیڈول، بھارت، امریکا کو کیا پیغام دینا چاہتا ہے؟

پون کھیرا نے مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ماضی میں خود بھارت نے ثالثی کی کوششیں کیں، تو پھر موجودہ مؤقف کو کس طرح درست قرار دیا جا سکتا ہے،دوسری جانب معروف تجزیہ نگار اشوک سوائن نے جے شنکر کے الفاظ کو “سڑک کی زبان” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کسی بھی ملک کے وزیرِ خارجہ کے شایانِ شان نہیں۔

عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ جے شنکر کا حالیہ بیان ان کے اپریل دو ہزار بائیس میں روس اور یوکرین کے درمیان ثالثی کی خواہش کے بیان سے مکمل طور پر متصادم ہے، مبصرین کے مطابق یہ غیر سفارتی رویہ دراصل حالیہ علاقائی حالات میں بھارت کو مرکزی کردار نہ ملنے پر ایک دفاعی ردعمل ہو سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں نے مزید کہا کہ حالیہ خلیجی بحران میں بھارت کا نمایاں کردار نہ ہونا اس کی خارجہ پالیسی کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ جے شنکر کے بیان نے بھارت کے خود کو امن کے داعی کے طور پر پیش کرنے کے بیانیے کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *