ہری پور یونیورسٹی میں مبینہ بے ضابطگیاں: طلبہ کے احتجاج پر کمیٹی تشکیل، تحقیقات کا آغاز

ہری پور یونیورسٹی میں مبینہ بے ضابطگیاں: طلبہ کے احتجاج پر کمیٹی تشکیل، تحقیقات کا آغاز

خیبرپختونخوا کی ہری پوریونیورسٹی میں میرٹ، شفافیت اور انصاف کی سنگین خلاف ورزیوں کے انکشافات کے بعد محکمۂ اعلیٰ تعلیم کی حالیہ آڈٹ رپورٹ میں بھی یونیورسٹی میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ دوسری جانب یونیورسٹی کے اساتذہ اور انتظامی عملے نے وائس چانسلر کے خلاف میرٹ کی پامالی، مالی بدعنوانی اور شدید انتظامی بدانتظامی کے الزامات عائد کرتے ہوئے باضابطہ طور پر آواز بلند کر دی ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان سنگین الزامات کی فوری اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ دار افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے۔

یونیورسٹی ذرائع کے مطابق ان مالی بے ضابطگیوں اور میرٹ کی خلاف ورزیوں کے خلاف گزشتہ چار سال سے اساتذہ، انتظامی عملہ اور طلبہ تنظیمیں احتجاج کر رہی ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی میں موجود بااثر عناصر اتنے طاقتور ہیں کہ تاحال کسی مؤثر کارروائی کا آغاز نہیں ہو سکا۔

اگر اس یونیورسٹی کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو اس کی بنیاد 2008 میں رکھی گئی۔ ابتدا میں یہ ہزارہ یونیورسٹی کے ذیلی کیمپس کے طور پر کام کرتی رہی، جس کا آغاز مارچ 2008 میں ہوا تھا۔ تاہم 2012 میں باقاعدہ طور پر یونیورسٹی آف ہری پور کے نام سے اس کا قیام عمل میں لایا گیا، جس کے بعد یہ ایک خودمختار جامعہ کے طور پر سامنے آئی۔
یونیورسٹی آف ہری پور کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اس نے 2025 میں اپنی تاریخ کا پہلا باقاعدہ ڈیجیٹل مالیاتی لین دین کامیابی سے مکمل کیا، جس کے بعد فیسوں اور دیگر ادائیگیوں کا نظام بتدریج مکمل طور پر آن لائن اور کیش لیس طریقۂ کار پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

یونیورسٹی آف ہری پور میں میرٹ اور شفافیت کے خلاف اساتذہ اور طلبہ اُس وقت احتجاج پر مجبور ہوئے جب وائس چانسلر کی جانب سے مبینہ طور پر یونیورسٹی کو مالی لحاظ سے کمزور کرنے کی کوششیں شروع کی گئیں۔ اساتذہ و عملے کی جانب سے چانسلر خیبرپختونخوا، وزیر اعلیٰ اور پرو چانسلر کو ارسال کی گئی تحریری درخواست میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ چار سال سے تقرریوں اور ترقیوں میں میرٹ کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ درخواست گزاروں کے مطابق اس صورتحال کے خلاف متعدد بار احتجاج اور نشاندہی کی گئی، تاہم یونیورسٹی انتظامیہ نے ہمیشہ خاموشی اختیار کیے رکھی۔

درخواست میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سلیکشن بورڈ 2025 کے دوران زیادہ نمبر حاصل کرنے والے اہل اور مستحق امیدواروں کو جان بوجھ کر نظرانداز کیا گیا، جبکہ من پسند افراد کو تقرریوں اور ترقیوں سے نوازا گیا۔ انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز میں زیادہ نمبر حاصل کرنے والے امیدواروں کو ناکام قرار دے کر یونیورسٹی کے دو من پسند امیدواروں کو کامیاب قرار دینا بھی میرٹ کے ساتھ سنگین مذاق قرار دیا گیا ہے۔

درخواست گزاروں کے مطابق بعض امیدواروں کو ایک ہی انٹرویو میں مختلف آسامیوں کے لیے الگ الگ نمبر دے کر نتائج تبدیل کیے گئے، جس سے شفافیت مکمل طور پر متاثر ہوئی۔ اسی طرح معذور افراد اور اقلیتوں کے لیے مختص سرکاری کوٹہ بھی نظرانداز کیا گیا، حالانکہ اس حوالے سے عدالتی احکامات اور یونیورسٹی قوانین موجود ہیں۔

اساتذہ نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ متعدد انتظامی آسامیاں بغیر این او سی اور منظور شدہ اسٹرکچر کے مشتہر کی گئیں، جبکہ کئی اہل افسران اور ملازمین برسوں سے ترقی کے منتظر ہیں۔ آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ جیسے اہم شعبے میں پروفیسر کی آسامیاں تک مشتہر نہیں کی جا رہیں، جس سے تعلیمی معیار متاثر ہو رہا ہے۔درخواست میں امتحانات کے دوران موبائل فون کے استعمال، مالی ریکارڈ میں مشتبہ اخراجات اور مختلف کمیٹیوں میں کوہاٹ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی سے تعلق رکھنے والے افراد کی غیر معمولی شمولیت پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ یونیورسٹی کے بیشتر اہم عہدے اس وقت اضافی چارج پر چلائے جا رہے ہیں، جو یونیورسٹی ایکٹ اور قواعد و ضوابط کی صریح خلاف ورزی ہے۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ 2025 کے سلیکشن بورڈ کے دوران نفسیات، تاریخ و سیاست اور کیمسٹری کے شعبہ جات میں پی ایچ ڈی ڈگری رکھنے والے امیدواروں کو انتخاب اور ترقی سے محروم رکھا گیا، جبکہ ایم فل امیدوار، بشمول سائرہ بانو (نفسیات) اور وقاص (تاریخ و سیاست)، کو منتخب کیا گیا۔

خریداری کے عمل میں مالی بے ضابطگیوں کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں، جن کے مطابق کم معیار کا فرنیچر اور سامان مہنگے داموں خریدا گیا، جبکہ ایک محدود گروہ بار بار اہم کمیٹیوں اور فیصلہ سازی کے فورمز پر حاوی رہتا ہے۔درخواست میں یونیورسٹی وسائل کے مبینہ غلط استعمال پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ سرکاری گاڑیوں کی موجودگی کے باوجود 80 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی ایک اضافی لگژری گاڑی خریدی گئی، جبکہ یونیورسٹی کی گاڑیاں اور ڈرائیور غیر سرکاری مقاصد کے لیے استعمال ہوئے۔

اس معاملے پر جب یونیورسٹی آف ہری پور کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شفیق الرحمن سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو ابتدا میں انہوں نے فون اٹینڈ نہیں کیا، جبکہ بعد ازاں رابطہ ہونے پر بھی مؤقف دینے سے صاف انکار کر دیا۔ وائس چانسلر کی خاموشی نے الزامات کو مزید تقویت دی ہے اور شکوک و شبہات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

بارہا شکایات اور احتجاج کے بعد اس معاملے کی چھان بین کے لیے ایڈیشنل سیکرٹری یونیورسٹیز محمد فاروق کی سربراہی میں 19 فروری کو تین رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ اس کمیٹی کے دو ارکان میں ڈپٹی سیکرٹری یونیورسٹیز اظہر ظہور اورایبٹ آباد سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے رجسٹرار شامل ہیں۔

کمیٹی کی تشکیل کے بعد ارکان کو یہ ٹاسک دیا گیا ہے کہ وہ حقائق کا تعین کریں، شفافیت کو یقینی بنائیں اور یہ تحقیق کریں کہ تقرریوں کے عمل میں یونیورسٹی ایکٹ، متعلقہ قوانین اور حکومتی پالیسیوں کو کہاں کہاں نظرانداز کیا گیا۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *