امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر پورٹ آرتھر میں قائم ویلرو انرجی کی آئل ریفائنری میں دھماکوں کے بعد آگ بھڑک اٹھی، جس سے قریبی آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق آگ لگنے سے قبل زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور قریبی گھروں کی کھڑکیاں لرز اٹھیں۔
رپورٹس کے مطابق آگ لگنے کی وجوہات فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکیں، تاہم فائر بریگیڈ اور ہنگامی امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ حکام نے قریبی علاقوں میں حفاظتی اقدامات اختیار کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مذکورہ ریفائنری روزانہ تقریباً ساڑھے چار لاکھ بیرل خام تیل کو پٹرول، ڈیزل اور طیارہ ایندھن میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جو امریکی توانائی نظام کا اہم حصہ ہے۔ ماہرین کے مطابق اس سطح کی پیداواری صلاحیت متاثر ہونے سے مقامی اور قومی سطح پر ایندھن کی فراہمی میں خلل کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات کے سبب عالمی سطح پر تیل کی رسد پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے۔
توانائی ماہرین کے مطابق ٹیکساس میں ریفائنری دھماکے کے بعد اگر پیداوار طویل عرصے تک معطل رہتی ہے تو امریکا میں ایندھن کی دستیابی اور قیمتوں پر فوری اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس صورتحال نے عالمی توانائی منڈی میں بے چینی کو مزید بڑھا دیا ہے، جبکہ سرمایہ کار خطے کی سیاسی و عسکری پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔