عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر تیزی دیکھی جا رہی ہے اور قیمتوں میں تقریباً 3 فیصد تک اضافے کے بعد برطانوی خام تیل 103 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا ہے، جبکہ امریکی خام تیل 91 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
گزشتہ روز ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملہ نہ کرنے اور مذاکرات کے امکان سے متعلق بیان سامنے آنے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی تھی۔ اس بیان کو جنگ کے خاتمے کے ممکنہ اشارے کے طور پر لیا گیا جس سے سرمایہ کاروں کے خدشات میں عارضی کمی آئی اور قیمتیں نیچے آگئی تھیں۔
تاہم تازہ پیش رفت میں قیمتیں دوبارہ بڑھ گئی ہیں، جس کی وجہ خطے میں غیر یقینی صورتحال اور متضاد بیانات کو قرار دیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث سپلائی سے متعلق خدشات برقرار ہیں، جس سے مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا ایران مزاکرات ،ایران کی 6 شرائط سامنے آگئیں
دوسری جانب ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ براہ راست جنگ بندی یا کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہو رہے۔ ایرانی مؤقف کے مطابق امریکا اور اسرائیل موجودہ صورتحال میں دباؤ کا شکار ہیں اور وہ بیانات کے ذریعے عالمی منڈیوں کو وقتی ریلیف دینے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ عالمی معیشتوں پر بڑھتا ہوا دباؤ کم کیا جا سکے۔
معاشی ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ عالمی افراطِ زر پر مزید دباؤ ڈال سکتا ہے، خصوصاً ان ممالک میں جو توانائی کی درآمدات پر انحصار کرتے ہیں۔ مارکیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک خطے میں کشیدگی کم نہیں ہوتی اور واضح سفارتی پیش رفت سامنے نہیں آتی، تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔