کوئٹہ سے واشنگٹن ڈی سی تک 7 ہزار میل سے زائد فاصلے پر محیط ولولہ بشیر (MIDP’26) کا سفر اس عزم کی کہانی ہے جو انہوں نے اپنے آبائی صوبے بلوچستان سے حاصل کیا، جہاں سے ان کی دلچسپی ترقیاتی پالیسی میں پروان چڑھی۔
ولولہ بشیر کا تعلق کوئٹہ سے ہے، جو بلوچستان کا دارالحکومت ہے۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا اور وسائل سے مالا مال صوبہ ہے جہاں پہاڑی سلسلے اور وسیع صحرا ایک دوسرے سے ملتے ہیں، تاہم وسائل کی فراوانی کے باوجود یہ ملک کا سب سے غریب صوبہ بھی ہے۔ کوئٹہ کی صلاحیت اور ترقیاتی چیلنجز کے درمیان موجود خلا بشیر کے لیے ایک مسلسل اور ذاتی تجربہ رہا۔
ایک خاتون ہونے کے ناطے انہوں نے مواقع کی اس کمی کو خود محسوس کیا اور دیکھا کہ یہ فرق خواتین کے لیے مزید گہرا ہے۔ ان کے مطابق صنف اس بات کا تعین کرتی ہے کہ کون فیصلوں میں شامل ہوگا، کون تعلیم حاصل کرے گا اور کس کو مواقع میسر آئیں گے۔
ولولہ بشیر کہتی ہیں، “میں ہمیشہ ایک ایسے معاشرتی ڈھانچے میں رہی جہاں خواتین کو مخصوص کرداروں تک محدود رکھا جاتا تھا۔”
انہوں نے ان روایتی توقعات کو بدلنے کا فیصلہ کیا۔ اپنے انڈرگریجویٹ دور میں انہوں نے ایک کیمپس مہم شروع کی جس کا مقصد زیادہ خواتین کو طلبہ سیاست میں شامل کرنا تھا۔ وہ مختلف تقریبات کا انعقاد کرتی رہیں اور خواتین پروفیشنلز کو مدعو کرتیں تاکہ روایتی پس منظر سے تعلق رکھنے والی لڑکیاں خود کو ان کرداروں میں دیکھ سکیں جو پہلے ان کے لیے ناممکن لگتے تھے۔ ان کا پیغام واضح تھا: اگر وہ کر سکتی ہیں تو دوسری لڑکیاں بھی کر سکتی ہیں۔
وہ کہتی ہیں، “میرا مقصد ہمیشہ یہی تھا کہ زیادہ سے زیادہ خواتین تعلیم حاصل کریں، کیونکہ ہمارے خطے میں خواتین کی تعلیم کو ترجیح نہیں دی جاتی۔”
ولولہ بشیر کو اندازہ تھا کہ ان کی یہ کاوشیں صرف ابتدا ہیں اور وہ اپنے علاقے میں مزید اثر ڈالنا چاہتی ہیں۔ تاہم، ان کے شہر میں روزگار کے مواقع محدود تھے اور وہ ان دباؤ کو سمجھتی تھیں جو نوجوان خواتین کو درپیش ہوتے ہیں۔ اسی لیے انہوں نے چھٹے سمسٹر میں، ڈگری مکمل ہونے سے پہلے ہی، مک کورٹ اسکول آف پبلک پالیسی میں درخواست دی اور انہیں داخلہ مل گیا۔
انڈرگریجویٹ ڈگری مکمل کرنے کے ایک ماہ بعد وہ اپنی زندگی میں پہلی بار پاکستان سے باہر امریکہ روانہ ہوئیں تاکہ مک کورٹ میں اپنی تعلیم کا آغاز کر سکیں۔ واشنگٹن ڈی سی کا یہ سفر ان کے لیے ایک نیا اور تبدیلی لانے والا تجربہ تھا۔
وہ کہتی ہیں، “یہ واقعی ایک تبدیلی لانے والا سفر تھا۔ میں پہلی بار ہر کام خود کر رہی تھی — شہر میں گھومنا، رہائش ڈھونڈنا، سب کچھ۔”
بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز سے بین الاقوامی تعلقات میں ڈگری حاصل کرنے کے بعد انہوں نے انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ پالیسی میں ماسٹرز کا آغاز کیا۔ انہیں معلوم تھا کہ پروگرام کا مقداری (quantitative) پہلو ان کے لیے ایک چیلنج ہوگا۔
وہ کہتی ہیں، “میں نے مک کورٹ کی سہولیات اور ٹیچنگ اسسٹنٹس کی مدد سے اپنے مقداری مضامین کو بہتر انداز میں سمجھا۔”
واشنگٹن ڈی سی پہنچ کر انہوں نے دیگر بین الاقوامی طلبہ کی مدد کرنے میں دلچسپی لی اور جارج ٹاؤن کے انٹرنیشنل ایمبیسیڈر پروگرام میں شامل ہو گئیں، جہاں وہ نئے طلبہ کو تعلیمی، سماجی اور ثقافتی طور پر رہنمائی فراہم کرتی رہیں۔
پہلے ہی سال انہوں نے مک کورٹ اسکول کے پبلک پالیسی چیلنج میں حصہ لیا، جہاں طلبہ کو واشنگٹن ڈی سی کے مسائل کے حل کے لیے تجاویز پیش کرنی ہوتی ہیں۔ ان کی ٹیم نے امیگرنٹ والدین کے لیے امریکی تعلیمی نظام کو سمجھنے میں مدد فراہم کرنے کا منصوبہ پیش کیا اور فائنلسٹ میں شامل ہوئی۔
کلاس روم سے باہر بھی ان کی جستجو جاری رہی۔ سینٹر فار فیتھ اینڈ جسٹس میں گریجویٹ اسسٹنٹ کے طور پر کام کرتے ہوئے انہوں نے بین المذاہب مکالمے کو تبدیلی کے ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر دریافت کیا، خاص طور پر اس وقت جب انہوں نے پہلی بار چرچ کی عبادت میں شرکت کی۔
وہ کہتی ہیں، “یہ ایک بامعنی تجربہ تھا کہ مختلف مذاہب کے لوگ ایک ہی جگہ جمع ہو کر مسائل پر بات کرتے ہیں اور ان کے حل کے لیے دعا کرتے ہیں۔”
گریجویشن کے قریب پہنچتے ہوئے بشیر ترقیاتی پالیسی میں مزید تجربہ حاصل کرنے کی خواہاں ہیں۔ وہ نہ صرف اپنی تجزیاتی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانا چاہتی ہیں بلکہ مکالمے کے ذریعے تبدیلی لانے پر بھی یقین رکھتی ہیں۔
ان کے مطابق، “پالیسی عوام کے لیے ہوتی ہے۔ جب تک آپ لوگوں سے بات نہیں کریں گے، آپ انہیں سمجھ نہیں سکتے، اور جب تک آپ انہیں سمجھیں گے نہیں، آپ ایسی پالیسی نہیں بنا سکتے جو ان کے مسائل حل کرے۔ یہ مک کورٹ میں سیکھے گئے سب سے بڑے اسباق میں سے ایک ہے۔”
طویل المدتی طور پر ان کا ہدف اپنے وطن بلوچستان واپس جانا ہے، جہاں وہ اپنی حاصل کردہ تعلیم اور تجربے کو استعمال کرتے ہوئے ان مسائل کا حل تلاش کرنا چاہتی ہیں جنہوں نے انہیں اس میدان کی طرف راغب کیا۔
وہ کہتی ہیں، “میرے لیے اس ڈگری کا حصول بہت اہم ہے کیونکہ میرے علاقے سے بہت کم لوگوں کو بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے۔ میرے کندھوں پر یہ ذمہ داری ہے کہ میں واپس جا کر اپنے لوگوں کے لیے کچھ کروں۔”