کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے حساس علاقے کے قریب ایک اچانک ڈرون حملے کے نتیجے میں ایندھن کے اسٹوریج ٹینکوں میں شدید آگ بھڑک اٹھی ہے۔
تٖصیلات کے مطابق زوردار دھماکوں کے بعد ایئرپورٹ کے قریبی صنعتی زون سے سیاہ دھوئیں کے بادل بلند ہوتے دیکھے گئے، جس کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز اور فائر فائٹرز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔ حکام نے احتیاطی تدابیر کے طور پر ایئرپورٹ کی جانب جانے والے تمام راستے بند کر دیے ہیں اور آس پاس کی عمارتوں کو خالی کروا لیا گیا ہے۔
محکمہ شہری دفاع کے ترجمان کے مطابق فائر فائٹرز کی متعدد ٹیمیں آگ بجھانے میں مصروف ہیں تاکہ اسے مزید ٹینکوں تک پھیلنے سے روکا جا سکے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس حملے میں کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی، تاہم ایندھن کے ذخائر کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ کروڑوں میں لگایا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈرون کی آمد کی سمت اور اس کے پیچھے ملوث عناصر کا سراغ لگانے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے اور فضائی دفاعی نظام کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔
اس ہنگامی صورتحال کے باعث کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پروازوں کا شیڈول بھی متاثر ہوا ہے اور کئی پروازوں کو قریبی ہوائی اڈوں کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔ وزارتِ داخلہ نے شہریوں کو جائے وقوعہ سے دور رہنے اور صرف سرکاری ذرائع سے آنے والی خبروں پر یقین کرنے کی ہدایت کی ہے۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے تازہ حملوں میں اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب اور اس کے مضافاتی علاقوں کو سب سے زیادہ نشانہ بنایا گیا ہے، جہاں دفاعی نظام ‘آئرن ڈوم’ (Iron Dome) کئی مقامات پر میزائلوں کو روکنے میں ناکام رہا۔
متعدد عمارتوں اور حساس تنصیبات کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ سڑکوں پر موجود گاڑیوں میں آگ لگنے کے مناظر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہے ہیں۔ حملے کے فوراً بعد پورے اسرائیل میں فضائی حملے کے سائرن بج اٹھے، جس نے زندگی کی رفتار کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا۔
مزید پڑھیں: ایران کا مذاکرات کے لیے سخت مؤقف: تہران کے ممکنہ مطالبات سامنے آ گئے

