موٹر سائیکل اور رکشہ صارفین کے لیے ‘سستا پیٹرول’ فراہم کرنے کا فیصلہ

موٹر سائیکل اور رکشہ صارفین کے لیے ‘سستا پیٹرول’ فراہم کرنے کا فیصلہ

حکومتِ پاکستان نے مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے طبقے کو براہِ راست ریلیف فراہم کرنے کے لیے ایک اہم سماجی و معاشی فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت اب موٹر سائیکل اور رکشہ چلانے والوں کو مارکیٹ سے کم قیمت پر پیٹرول فراہم کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق اس فیصلے کا بنیادی مقصد دیہاڑی دار طبقے اور متوسط خاندانوں کے ٹرانسپورٹ اخراجات میں نمایاں کمی لانا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف پیکیج کو شفاف بنانے کے لیے ایک جامع ڈیجیٹل نظام وضع کیا جا رہا ہے۔ موٹر سائیکل اور رکشہ مالکان کے لیے ماہانہ پیٹرول کی ایک مخصوص مقدار (لیٹرز میں) مقرر کی جائے گی جو وہ رعایتی قیمت پر حاصل کر سکیں گے۔

پیٹرول کی اصل قیمت اور رعایتی قیمت کے درمیان فرق حکومتِ پاکستان خود برداشت کرے گی۔ پیٹرول پمپ پر سستا پیٹرول حاصل کرنے کے لیے شناختی کارڈ (CNIC) یا مخصوص موبائل ایپ کے ذریعے تصدیق لازمی ہوگی تاکہ صرف مستحق افراد ہی اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔

اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے درج ذیل شرائط پر غور کیا جا رہا ہے: موٹر سائیکل یا رکشہ کا صارف کے اپنے نام پر رجسٹرڈ ہونا ضروری ہو سکتا ہے۔ یہ سہولت بنیادی طور پر ان افراد کے لیے ہے جن کی ماہانہ آمدنی ایک مخصوص حد سے کم ہے۔

ابتدائی طور پر مخصوص سرکاری یا بڑے نجی پیٹرول پمپس کو اس نیٹ ورک کا حصہ بنایا جائے گا جہاں ‘رعایتی کاؤنٹرز’ قائم ہوں گے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ہونے والی کمر توڑ مہنگائی سے غریب عوام کو فوری ریلیف ملے گا۔ خاص طور پر رکشہ ڈرائیورز، جو روزانہ کی بنیاد پر ایندھن خریدتے ہیں، ان کی بچت میں اضافہ ہوگا جس کا فائدہ بالآخر عام مسافروں کو کرایوں میں کمی کی صورت میں مل سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر 69 ارب روپے کا بوجھ خود برداشت کیا، وزیر خزانہ

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *