امریکی خفیہ ادارے کے سابق سربراہ جان برینن نے ایک غیر معمولی اور چونکا دینے والا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں ایران کے مؤقف پر زیادہ یقین رکھتے ہیں، جس نے امریکی سیاسی اور سفارتی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
اپنے ایک تفصیلی بیان میں جان برینن نے کہا کہ متعدد مواقع پر حقائق سامنے آنے کے باوجود صدر ٹرمپ انہیں تسلیم کرنے سے گریز کرتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق ٹرمپ کی پالیسیوں اور بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے، جس سے نہ صرف امریکا کی عالمی ساکھ متاثر ہوئی بلکہ حساس معاملات میں غیر یقینی صورتحال بھی پیدا ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ اپنی ہی بنائی گئی پالیسیوں اور فیصلوں کے نتائج سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اسی تناظر میں وہ ایسے بیانات دے رہے ہیں جن کا زمینی حقائق سے کوئی خاص تعلق نہیں۔ برینن کے مطابق یہ دعویٰ بھی درست نہیں کہ ایران امریکی شرائط پر مذاکرات کے لیے آمادہ ہے، بلکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
سابق سربراہ کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے بارہا یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وہ برابری کی بنیاد پر بات چیت کا خواہاں ہے، نہ کہ کسی دباؤ یا یکطرفہ شرائط کے تحت۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں سفارتی پیچیدگیاں اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ کسی بھی غلط بیانی یا غیر حقیقت پسندانہ دعوے سے صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ جان برینن کا یہ بیان نہ صرف امریکی داخلی سیاست میں اہمیت رکھتا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر ہے اور ایران و امریکا کے تعلقات ایک نازک موڑ پر کھڑے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک سابق انٹیلی جنس سربراہ کی جانب سے اس نوعیت کا بیان غیر معمولی ہے، کیونکہ عموماً ایسے عہدوں پر فائز رہنے والے افراد محتاط زبان استعمال کرتے ہیں۔ اس بیان سے یہ تاثر بھی مل رہا ہے کہ امریکی پالیسی سازی کے اندرونی حلقوں میں بھی اختلافات موجود ہیں۔
دوسری جانب ٹرمپ یا ان کی ٹیم کی جانب سے اس بیان پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس پر سیاسی ردعمل دیکھنے کو مل سکتا ہے۔