صوبہ پنچاب کے دارالحکومت لاہور میں ایک اہم پیش رفت کے دوران پاکستان تحریک انصاف پنجاب کی چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حراست میں لے لیا۔ گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب وہ اپنی فیملی سے ملاقات کے لیے لاہور میں اپنے گھر پر موجود تھیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سیکیورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری نے رہائش گاہ کو گھیرے میں لیا اور کچھ دیر بعد عالیہ حمزہ کو تحویل میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران علاقے میں غیر معمولی سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے، جبکہ قریبی سڑکوں پر آمد و رفت بھی جزوی طور پر محدود کر دی گئی تھی۔
گرفتاری کے فوری بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی، جبکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں اور کارکنان نے اس اقدام پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ پی ٹی آئی کا الزام ہے کہ عالیہ حمزہ کی گرفتاری سیاسی دباؤ بڑھانے کی ایک کڑی ہے، جبکہ حکومت یا متعلقہ اداروں کی جانب سے تاحال اس حوالے سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔
یاد رہے کہ عالیہ حمزہ 9 مئی کے واقعات سے متعلق مختلف مقدمات میں پہلے ہی سزا یافتہ ہیں۔ عدالتوں کی جانب سے انہیں ہر مقدمے میں 10، 10 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ ان مقدمات میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے، احتجاجی مظاہروں میں شرکت اور دیگر سنگین الزامات شامل ہیں۔
واضح رہے کہ اگرچہ وہ پہلے سے سزا یافتہ ہیں، تاہم ان کی تازہ گرفتاری ممکنہ طور پر کسی نئے مقدمے، ضمانت کی منسوخی یا سزا پر عمل درآمد کے سلسلے میں ہو سکتی ہے۔ اس حوالے سے مزید تفصیلات سرکاری بیان سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوں گی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آئندہ چند روز میں اس کیس میں مزید گرفتاریاں یا قانونی پیش رفت بھی متوقع ہو سکتی ہے، جس سے سیاسی درجہ حرارت میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔