پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان قرض پروگرام کی اگلی قسط کی منظوری کے حوالے سے اہم پیش رفت متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق، 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کے اسٹاف لیول معاہدے کا اعلان چند روز میں ہو سکتا ہے۔
آئی ایم ایف کی مشن ٹیم نے حکومت کو میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسیز کا مسودہ فراہم کیا ہے۔ مشاورت کے بعد، جب دونوں طرف سے اتفاق رائے قائم ہو جائے گا، تو وفاقی وزیر خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک دستخط کریں گے۔
ذرائع کے مطابق، آئی ایم ایف نے حکومت سے ٹیکس اور نان ٹیکس ریونیو بڑھانے پر زور دیا ہے۔ ہائی اوکٹین فیول کے بعد پٹرول اور ڈیزل پر 5 روپے فی لیٹر اضافی لیوی لگانے کی تجویز زیر غور ہے۔ ترقیاتی بجٹ میں 100 ارب روپے کی کٹوتی پر بھی آئی ایم ایف کو اعتماد میں لیا گیا ہے۔
آئی ایم ایف نے بعض اداروں کے سربراہان کے تقرر کے اختیار پر بھی اعتراض کیا ہے۔ مختلف اداروں کے سربراہان یا سی ای اوز کی تقرری کے اختیار بورڈز کے پاس ہونے کے مسئلے پر آئی ایم ایف نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
مزید براں، بجلی اور گیس کے شعبے کے گردشی قرضوں کو کنٹرول کرنے کے لیے حکومتی پلان بھی آئی ایم ایف کے سامنے رکھا گیا ہے۔ آئی ایم ایف علاقائی کشیدگی اور اس کے پاکستانی معیشت پر اثرات کا بھی جائزہ لے رہا ہے۔
توانائی، کھاد اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کے علاوہ مالیاتی دباؤ، رئیل اسٹیٹ اور پراپرٹی سیکٹر کے لیے ریلیف اقدامات بھی زیر غور ہیں۔ پراپرٹی خرید و فروخت پر ٹیکس میں کمی کی تجاویز آئی ایم ایف کی منظوری سے مشروط ہیں۔