آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور ممکنہ بندش کے اثرات عالمی شپنگ اور ٹرانسپورٹ سیکٹر پر نمایاں ہونے لگے ہیں، جس کے باعث دنیا بھر میں کارگو اور توانائی کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔ تاہم اس صورتحال میں پاکستان کے لیے نئے معاشی مواقع بھی سامنے آئے ہیں، جہاں ملکی بندرگاہیں متبادل شپمنٹ روٹس کے طور پر اہمیت اختیار کرتی جا رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کے باعث خلیجی ممالک سے آنے والا کارگو اب متبادل راستوں کی تلاش میں ہے، اور اس تناظر میں کراچی پورٹ، پورٹ قاسم اور گوادر پورٹ اہم ٹرانس شپمنٹ حب کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ کچھ کارگو پہلے ہی پاکستانی بندرگاہوں پر منتقل ہو رہا ہے، جہاں سے فیڈر سروسز کے ذریعے اسے دیگر ممالک تک پہنچایا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان بندرگاہی ٹیکس اور ٹیرفس کو مسابقتی بنائے تو ملک مستقل بنیادوں پر علاقائی ٹرانس شپمنٹ مرکز بن سکتا ہے۔ خاص طور پر گوادر پورٹ کی جغرافیائی حیثیت اسے خطے میں ایک اسٹریٹیجک متبادل بناتی ہے۔
مزید برآں، پاکستان چین اور وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی کے لیے ایک محفوظ اور قابل اعتماد راہداری کے طور پر بھی اپنی اہمیت بڑھا رہا ہے۔ سوست ڈرائی پورٹ گزشتہ دو برس سے فعال ہے اور خنجراب پاس کے ذریعے تجارت جاری ہے۔ سخت موسمی حالات کے باوجود نیشنل لاجسٹکس سیل (این ایل سی) کی جانب سے اس روٹ کو 24 گھنٹے کھلا رکھنے کے اقدامات کیے گئے ہیں، جس سے پاک چین تجارت کو مزید تقویت ملی ہے۔
ماہرین کے مطابق چین پاکستان اقتصادی راہداری کا شمالی روٹ اس وقت خطے کا تیز ترین، محفوظ اور قابل اعتماد تجارتی راستہ بنتا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف چین بلکہ وسطی ایشیا تک رسائی بھی آسان ہو گئی ہے۔
معاشی حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے سازگار مواقع فراہم کر رہی ہے۔ ملک کے پاس افرادی قوت، قدرتی وسائل، سی پیک کے تحت تیار ہونے والا انفراسٹرکچر اور بڑھتی ہوئی ٹرانس شپمنٹ صلاحیت جیسے عوامل موجود ہیں، جو اسے خطے میں ایک اہم معاشی کھلاڑی بنا سکتے ہیں۔