پاکستان کی معیشت اور برآمدی شعبے سے متعلق ایک اہم معاملہ اس وقت زیر بحث ہے، جہاں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے صاحبزادوں کی سرگرمیوں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
اطلاعات کےمطابق عمران خان کے بیٹے قاسم خان کی جانب سے مبینہ طور پر یورپی یونین سے پاکستان کا جی ایس پی پلس اسٹیٹس ختم کرنے کی اپیل کی گئی ہے، جس پر معاشی ماہرین نے شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے کھلی معاشی تخریب کاری قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستان کی معیشت بحالی کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے صاحبزادوں نے جنیوا میں بعض متنازع شخصیات سے بھی ملاقاتیں کیں۔ بتایا جاتا ہے کہ قاسم اور سلیمان نے بلوچ نیشنل موومنٹ کے رہنما نسیم بلوچ سے ملاقات کی، جبکہ اس موقع پر پی ٹی آئی کے رہنما زلفی بخاری بھی موجود تھے۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ نسیم بلوچ کا تعلق کالعدم تنظیم بی ایل اے سے رہا ہے، تاہم اس حوالے سے باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اس سے قبل بھی بانی پی ٹی آئی کے صاحبزادوں کی جانب سے بیرون ملک پاکستان سے متعلق مظاہروں میں شرکت کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں۔
یہ ملاقاتیں جنیوا میں اقوام متحدہ برائے انسانی حقوق کے دفتر میں ہوئیں، جہاں مختلف افراد سے رابطے کیے گئے۔ ان سرگرمیوں پر سیاسی اور معاشی حلقوں میں بحث جاری ہے، جبکہ حکومتی سطح پر بھی اس معاملے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق جی ایس پی پلس اسٹیٹس پاکستان کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ یہ یورپی منڈیوں تک ترجیحی رسائی فراہم کرتا ہے، برآمدات میں اضافہ کرتا ہے اور لاکھوں افراد کے روزگار سے جڑا ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس حیثیت کو ختم کروانے کی کوئی بھی کوشش قومی مفادات کے خلاف اقدام تصور کی جائے گی۔