اسلام آباد ہائیکورٹ نے پولیس اور وفاقی اداروں میں بھرتیوں پر عائد پابندی کے حکم امتناع کو ختم کرنے کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔ لارجر بینچ، جس میں چیف جسٹس سرفراز ڈوگر، جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس انعام امین منہاس شامل تھے، نے یکم اگست 2024 کو جاری کردہ حکم امتناع کو واپس لے لیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں آئی جی اسلام آباد پولیس کو ہدایت کی کہ وہ موجودہ پالیسی کے مطابق بھرتیوں کا نیا عمل فوراً شروع کریں۔ عدالت نے واضح کیا کہ تمام بھرتیاں کیس کے حتمی فیصلے تک مشروط ہوں گی اور زائد العمر ہونے والے امیدواروں کو بھی نئے بھرتی عمل میں حصہ لینے کا موقع دیا جائے گا۔
حکم نامے میں یہ بھی ذکر کیا گیا کہ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے درخواست کی سماعت کے قابل ہونے پر اعتراض اٹھایا تھا، جبکہ درخواست گزار بیرسٹر یاور گردیزی نے دلائل کے لیے مہلت طلب کی تھی۔ ایڈووکیٹ جنرل کے مطابق پولیس میں بھرتیوں کے عمل کے رک جانے سے سیکیورٹی کے معاملات پر منفی اثر پڑا ہے۔
اس فیصلے کے بعد نہ صرف پولیس اور وفاقی اداروں میں بھرتیوں کا عمل بحال ہوگا بلکہ موجودہ امیدواروں کے حق میں بھی واضح رہنمائی فراہم کی گئی ہے، جو آئندہ کے بھرتی عمل کے لیے ایک قانونی سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔