وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے اداکار حمزہ علی عباسی کی بہن، ڈاکٹر فضیلہ عباسی کے خلاف منی لانڈرنگ کے ایک اہم کیس میں تحقیقات کی تفصیلات جاری کی ہیں، جس میں انکشافات سامنے آئے ہیں کہ ڈاکٹر فضیلہ عباسی نے اپنے خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ مل کر لاکھوں ڈالرز اور درہم بیرون ملک منتقل کیے۔
ایف آئی اے کی تحقیقات کے مطابق، ڈاکٹر فضیلہ عباسی نے اپنی والدہ سابق ایم این اے نسیم چوہدری اور بھائی حمزہ علی عباسی کے ساتھ مشترکہ بینک اکاؤنٹس کھول رکھے تھے، جن کے ذریعے غیر قانونی طور پر 13 لاکھ ڈالرز سے زائد کی رقم بیرون ملک منتقل کی گئی۔ یہ تمام منتقلی بغیر کسی حکومتی ادارے کو اطلاع دیے کی گئی تھی اور ایف بی آر (فیڈرل بورڈ آف ریونیو) کو اس کی خبر تک نہیں ہوئی۔
دستاویزات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ڈاکٹر فضیلہ عباسی نے اپنے ٹیکس گوشواروں میں صرف تین بینک اکاؤنٹس ظاہر کیے تھے، جن میں سنگین بے ضابطگیاں پائی گئیں۔ اس کے علاوہ، ملزمہ نے جو دو لاکھ ڈالرز کی رسیدیں فراہم کیں، وہ دراصل ان کے ڈرائیور اور دوستوں کے نام پر تھیں، جنہیں ایف آئی اے نے مسترد کر دیا ہے۔
مزید تحقیقات کے دوران کئی کاروباری کمپنیوں کے نام بھی سامنے آئے، تاہم ٹیکس ریکارڈ سے یہ ثابت ہوا کہ ان کمپنیوں کا ڈاکٹر فضیلہ عباسی کی ظاہر کردہ آمدنی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ڈاکٹر فضیلہ عباسی نے لاکھوں ڈالرز کی منتقلی اور دستاویزی ثبوت فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکامی کا سامنا کیا ہے، جس کے باعث ان کے موقف کو ناقابلِ قبول قرار دیا گیا ہے اور قانونی کارروائی تیز کر دی گئی ہے۔
یہ انکشافات ایک سنسنی خیز موڑ پر پہنچے ہیں اور آئندہ کی قانونی کارروائی کے منتظر ہیں۔