کراچی پورٹ پر تجارتی سرگرمیوں میں تیزی: جہازوں کی آمد اور کارگو ہینڈلنگ میں ریکارڈ اضافہ

کراچی پورٹ پر تجارتی سرگرمیوں میں تیزی: جہازوں کی آمد اور کارگو ہینڈلنگ میں ریکارڈ اضافہ

کراچی پورٹ ٹرسٹ (KPT) نے رواں مالی سال کے دوران اپنی تجارتی کارکردگی میں نمایاں پیش رفت ریکارڈ کی ہے، جس کے تحت بندرگاہ پر بحری جہازوں کی آمد اور کارگو ہینڈلنگ کے حجم میں خاطر خواہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق عالمی تجارتی سرگرمیوں کی بحالی اور ملکی برآمدات میں بہتری کے باعث کراچی پورٹ پر سامان کی ترسیل کے عمل میں تیزی آئی ہے، جو ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔ پورٹ حکام کے مطابق، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور آپریشنل صلاحیتوں میں اضافے نے جہازوں کے ٹھہراؤ کے وقت (Turnaround Time) کو کم کرنے میں مدد دی ہے، جس سے بین الاقوامی شپنگ لائنز کا اعتماد مزید بحال ہوا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، گزشتہ چند مہینوں کے دوران کنٹینرائزڈ کارگو، بلک کارگو اور مائع کارگو  کی ہینڈلنگ میں دوہرے ہندسوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ کراچی پورٹ پر لنگر انداز ہونے والے جہازوں کی تعداد میں اضافے سے نہ صرف ریونیو میں بہتری آئی ہے بلکہ اس سے متعلقہ لاجسٹک اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں بھی روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

وفاقی وزارتِ جہاز رانی و بحری امور نے اس کامیابی کو پورٹ انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن اور کلیئرنس کے عمل کو سہل بنانے کی حکومتی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا ہے۔

دوسری جانب کراچی پورٹ بارے معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ کراچی پورٹ پر کارگو ہینڈلنگ میں یہ اضافہ پاکستان کی غیر ملکی تجارت کے استحکام کی عکاسی کرتا ہے، بالخصوص ٹیکسٹائل اور خام مال کی درآمد و برآمد میں تیزی اس کا بنیادی سبب ہے۔

بندرگاہ کی گنجائش کو مزید بڑھانے کے لیے نئے ٹرمینلز کی تعمیر اور ڈیجیٹلائزیشن کے منصوبوں پر کام جاری ہے، تاکہ اسے خطے کی ایک جدید اور مسابقتی بندرگاہ بنایا جا سکے۔ آنے والے دنوں میں سی پیک (CPEC) سے منسلک منصوبوں کی تکمیل اور علاقائی تجارت میں اضافے سے کراچی پورٹ کی اہمیت اور کارکردگی میں مزید کئی گنا اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔

مزید پڑھیں: کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ڈرون حملہ: ایندھن کے اسٹوریج ٹینکوں میں لگی آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *