ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ کے معاملے پر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ ڈیوڈ بارنیہ کے درمیان اختلافات سنگین صورت اختیار کر گئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق موساد کے سربراہ گزشتہ ایک ہفتے سے وزیراعظم نیتن یاہو کی زیرِ صدارت ہونے والے اہم سیکیورٹی اور پالیسی اجلاسوں میں شریک نہیں ہو رہے، جسے اندرونی اختلافات اور کشیدگی کی واضح علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی میڈیا نے عبرانی خبر رساں اداروں کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ان اختلافات کی بنیادی وجہ وہ الزامات ہیں جو نیتن یاہو کی جانب سے موساد کے سربراہ پر عائد کیے گئے۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا مؤقف ہے کہ موساد نے ایران کی فوجی صلاحیت، دفاعی تیاریوں اور داخلی سیاسی و سماجی صورتحال سے متعلق غلط یا گمراہ کن معلومات فراہم کیں۔
مزید کہا گیا ہے کہ انہی مبینہ غلط معلومات کی بنیاد پر ایران کے خلاف جارحانہ حکمت عملی اپنائی گئی، جس کے نتائج غیر یقینی ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ پالیسی ناکامی سے دوچار ہوتی ہے تو اس کے اثرات اسرائیل کی سلامتی اور اس کے وجود تک کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
دوسری جانب موساد کے ذرائع نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ حکومت کو مکمل طور پر حقائق پر مبنی، مستند اور پیشہ ورانہ رپورٹس فراہم کی گئی تھیں۔ موساد کے مطابق جنگی فیصلے کا اختیار سیاسی قیادت کے پاس ہوتا ہے اور ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کا فیصلہ وزیراعظم نیتن یاہو نے خود کیا، لہٰذا اس کے نتائج کی ذمہ داری بھی انہی پر عائد ہوتی ہے۔
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس تنازع نے اسرائیلی قیادت کے اندر پائے جانے والے پالیسی اختلافات کو مزید نمایاں کر دیا ہے، جبکہ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف اسرائیل کی اندرونی سیاست بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔