لاہور ہائیکورٹ میں ہائی اوکٹین پیٹرول کی قیمت میں 200 روپے فی لیٹر اضافے کے خلاف باقاعدہ درخواست دائر کر دی گئی ہے، جس میں اس اضافے کو غیر قانونی، غیر شفاف اور عوام دشمن قرار دیا گیا ہے۔
متفرق درخواست میں وفاقی حکومت پاکستان اور اوگرا کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ہائی اوکٹین پر عائد لیوی کو اچانک 100 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 300 روپے فی لیٹر کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں مجموعی قیمت میں 200 روپے فی لیٹر کا غیر معمولی اضافہ ہوا۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ اضافہ بین الاقوامی مارکیٹ کے رجحانات کے برعکس ہے، کیونکہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود اس قدر بڑا اضافہ کسی معاشی جواز کے بغیر کیا گیا۔ درخواست گزار کے مطابق حکومت نے قیمتوں کے تعین میں شفافیت کا مظاہرہ نہیں کیا اور نہ ہی عوام کو اس اضافے کی وجوہات سے آگاہ کیا گیا۔
درخواست میں مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ہائی اوکٹین اگرچہ زیادہ تر لگژری گاڑیوں میں استعمال ہوتا ہے، تاہم اس کی قیمت میں اس قدر اضافہ مجموعی مہنگائی پر اثر انداز ہوتا ہے، کیونکہ اس سے ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس اور دیگر شعبوں کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں، جو بالآخر عام صارف تک منتقل ہوتے ہیں۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا مکمل فارمولا، ٹیکسز اور لیویز کی تفصیلات طلب کی جائیں تاکہ حقیقت عوام کے سامنے آ سکے۔ مزید یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ عدالت حکومت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ’خودساختہ‘ اور غیر ضروری اضافے سے روکنے کے احکامات جاری کرے۔
واضح رہے کہ عدالت اگر اس کیس کی سماعت کے دوران قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کا جائزہ لیتی ہے تو یہ مستقبل میں پیٹرولیم قیمتوں کے نظام میں شفافیت لانے کی جانب ایک اہم قدم ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس اضافے نے پہلے ہی مارکیٹ میں بے چینی پیدا کر دی ہے، جبکہ اگر یہ برقرار رہا تو مہنگائی کی نئی لہر آ سکتی ہے، جس سے عام شہری مزید متاثر ہوں گے۔