امریکا اور اسرائیل بری طرح پھنس گئے ہیں، مشاہد حسین سید کی سابق اہم اسرائیلی عہدیدار سے گرما گرم بحث

امریکا اور اسرائیل بری طرح پھنس گئے ہیں، مشاہد حسین سید کی سابق اہم اسرائیلی عہدیدار سے گرما گرم بحث

سینئر پاکستانی سیاستدان اور سابق سینیٹر مشاہد حسین سید نے ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی پر ایک عرب ٹی وی پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران پر حملے دراصل ‘گریٹر اسرائیل’ منصوبے کا حصہ ہیں، جن کے خطے پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔

تفصیلات کے مطابق ایک بین الاقوامی نشریاتی پروگرام میں مشاہد حسین سید اور اسرائیل کے سابق قومی سلامتی مشیر یاکوف امیڈرور کے درمیان اہم اور تند و تیز مکالمہ ہوا، جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی موجودہ صورتحال پر اپنے اپنے مؤقف پیش کیے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات جمعےکو مسقط میں ہوں گے: ایرانی و امریکی حکام کی تصدیق

گفتگو کے دوران مشاہد حسین سید نے دوٹوک انداز میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائیاں ایک وسیع تر منصوبے کا حصہ ہیں، جس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن تبدیل کرنا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ جنگ دراصل اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکمت عملی کا نتیجہ ہے، جس میں انہوں نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی شامل کر لیا۔

انہوں نے کہا کہ ایران اس جنگ میں غیر متوقع طور پر مضبوط ثابت ہوا ہے اور ‘4’ ہفتے گزرنے کے باوجود بھرپور مزاحمت کر رہا ہے۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل کو متاثر کیا اور یہ ایران کی ایک بڑی اسٹریٹجک کامیابی ہے۔

مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل نے اس جنگ کے نتائج کا درست اندازہ نہیں لگایا تھا اور اب صورتحال ان کے کنٹرول سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دونوں ممالک کا منصوبہ ناکامی سے دوچار ہو چکا ہے اور اب امن کی کوششیں تیز کی جا رہی ہیں۔

دوسری جانب، اسرائیلی سابق مشیر یاکوف امیڈرور نے پروگرام میں مؤقف اختیار کیا کہ اسرائیل کے اندر حالات معمول کے مطابق ہیں اور دفاعی نظام مؤثر انداز میں کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ توقع کے برعکس کم تعداد میں انٹرسپٹر میزائل استعمال ہوئے۔

اس پر مشاہد حسین سید نے اسرائیل کے دفاعی نظام ‘آئرن ڈوم’ کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اسے ناقابلِ شکست قرار دیا جاتا تھا، مگر حالیہ حملوں میں اس کی کارکردگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ جواب میں امیڈرور نے کہا کہ آئرن ڈوم نے ’90’ فیصد حملوں کو ناکام بنایا، تاہم بعد ازاں انہوں نے تسلیم کیا کہ کئی حملوں کو روکنے میں ‘ایرو-3’ نظام نے بھی کلیدی کردار ادا کیا۔

ماہرین کے مطابق اس طرح کے بیانات اور مباحثے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں ہر فریق اپنی حکمت عملی کو کامیاب قرار دینے کی کوشش کر رہا ہے۔

بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال یہی رہی تو خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور سفارتی تعلقات پر بھی مرتب ہوں گے۔ اس تناظر میں عالمی برادری کی جانب سے فوری اور مؤثر سفارتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ تنازع مزید شدت اختیار نہ کرے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *