امریکا ایران مزاکرات میں بڑی پیش رفت،3 ممالک کے وزراء خارجہ کی پاکستان آمد سے متعلق اسحاق ڈار نے تفصیلات بتا دیں

امریکا ایران مزاکرات میں بڑی پیش رفت،3 ممالک کے وزراء خارجہ کی پاکستان آمد سے متعلق اسحاق ڈار نے تفصیلات بتا دیں

وفاقی وزیر خارجہ اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ 29 اور 30 مارچ کو پاکستان کا دورہ کریں گے تاکہ خطے میں جاری کشیدگی کے حل اور دوطرفہ و علاقائی امور پر تفصیلی بات چیت کی جا سکے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق اس موقع پر سعودی وزیر خارجہ پرنس فیصل بن فرحان السعود، ترکی کے وزیر خارجہ اور مصر کے وزیر خارجہ اسلام آباد میں قیام کریں گے۔ دورے کے دوران تینوں مہمان وزرائے خارجہ وزیر اعظم شہباز شریف  سے بھی ملاقات کریں گے تاکہ علاقائی سکیورٹی، تجارتی تعلقات اور سیاسی تعاون پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

قبل ازیں، سابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی اہم شخصیات کی پاکستان آمد پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ دورہ خطے کے استحکام اور تعلقات میں مضبوطی کا اہم موقع ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ وزرائے خارجہ کے دورے سے بین الاقوامی تعلقات اور دو طرفہ تعاون میں بہتری آئے گی۔

یہ بھی پڑھیں:ایرانی فوج کا امریکا کیساتھ کسی قسم کا معاہدہ نہ کرنے کا اعلان

’جیو نیوز‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے  بتایا کہ سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ کل اسلام آباد پہنچیں گے اور اگلے روز وزیر اعظم سے ملاقات کریں گے یہ ملاقاتیں تنازعات کو حل کرنے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم ہیں۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ ان کا ترکی میں ملاقات کا منصوبہ تھا، لیکن مصروفیات کے سبب انہوں نے تمام وزرائے خارجہ کو اسلام آباد مدعو کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام دوست ممالک ایران کے ساتھ بات چیت میں بھرپور تعاون کر رہے ہیں، اور مذاکرات کی حساس نوعیت کے پیش نظر میڈیا پر تفصیلی تبصرہ کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لیے ایمانداری اور نیک نیتی کے ساتھ کام کر رہا ہے، اور اس کوشش میں تمام متعلقہ ممالک بھرپور تعاون فراہم کر رہے ہیں۔

یہ دورہ اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی حکام نے جنگ بندی کے لیے پاکستان کے ذریعے ایران کو 15 نکاتی فارمولہ پیش کیا تھا، جس کی ایران نے تصدیق کی اور پھر پاکستان کے توسط سے اپنا جواب امریکہ تک پہنچایا۔ اس پیش رفت کے تناظر میں یہ دورہ خطے میں امن اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *