نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اسلام آباد میں منعقدہ چار فریقی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ تینوں وزرائے خارجہ سے مثبت ملاقاتیں ہوئیں اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ چاروں ممالک کی مشترکہ کوشش ہے کہ خطے میں جلد از جلد جنگ بندی ہو اور کشیدگی کو کم کیا جائے۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ اسلام آباد میں چاروں وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس ان کی دعوت پر بلایا گیا تھا، جس میں خطے کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور امن کے قیام سے متعلق مختلف پہلوؤں پر مشاورت کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس کے دوران تمام شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں جاری کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں اور اس کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزرائے خارجہ نے امن کے قیام کے لیے مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا اور سفارتکاری کو مکمل حمایت فراہم کرنے پر اتفاق کیا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ تمام ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ مسائل کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے بات چیت اور سفارتی ذرائع سے نکالا جانا چاہیے۔
نائب وزیر اعظم نے اپنی گفتگو میں یہ بھی کہا کہ چین نے پاکستان کی ثالثی کی مکمل حمایت کی ہے، جو اس امر کا واضح اظہار ہے کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان پرامید ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جلد مذاکرات شروع ہوں گے، جو خطے میں امن کے قیام کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ اجلاس میں شریک تینوں وزرائے خارجہ کے ساتھ ہونے والی ملاقاتیں نہایت مثبت اور تعمیری رہیں، جن میں خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے مشترکہ اقدامات پر غور کیا گیا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا اور تمام فریقین کے ساتھ مل کر کشیدگی کے خاتمے کے لیے کردار ادا کرے گا۔