ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کی تجویز سامنے آ گئی ہے، جس کے تحت فی یونٹ بجلی کی قیمت میں ایک روپیہ چونسٹھ پیسے اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اگر اس تجویز کی منظوری دے دی گئی تو یہ اضافہ صارفین کے آئندہ ماہ کے بلوں میں شامل کیا جائے گا، جس سے عوام پر مزید مالی دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے۔
یہ اضافہ فروری کے ماہانہ ایندھن قیمت ایڈجسٹمنٹ کی مد میں تجویز کیا گیا ہے، جس پر حتمی فیصلہ کل ہونے والی سماعت میں کیا جائے گا۔ اس حوالے سے قومی بجلی ضابطہ کار ادارہ عوامی سماعت کرے گا، جس میں پیش کردہ دلائل اور اعداد و شمار کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا تاکہ بجلی کی قیمت بڑھانے یا نہ بڑھانے کے بارے میں فیصلہ کیا جا سکے۔
اگر اس اضافے کی منظوری دی جاتی ہے تو اس کے نتیجے میں ملک بھر کے صارفین پر چودہ ارب روپے سے زائد کا اضافی بوجھ پڑے گا اس کا اطلاق نہ صرف مختلف علاقوں میں قائم تقسیم کار کمپنیوں کے صارفین پر ہوگا بلکہ کراچی کی بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کے صارفین بھی اس سے متاثر ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں :الیکٹرک وہیکلز پالیسی ، چارجنگ اسٹیشنز اوربجلی قیمت سے متعلق معاملات طے

