مسجدِ اقصیٰ کے دروازے 30 دن سے بند، عبادت پر اسرائیلی پابندیاں مسترد، 8 مسلم ممالک کا مشترکہ اعلامیہ جاری

مسجدِ اقصیٰ کے دروازے 30 دن سے بند، عبادت پر اسرائیلی پابندیاں مسترد، 8 مسلم ممالک کا مشترکہ اعلامیہ جاری

پاکستان سمیت دنیا کے 8 اہم مسلم اکثریتی ممالک نے مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) میں مسلمانوں اور عیسائیوں کی عبادات کی آزادی پر اسرائیل کی جانب سے عائد مسلسل پابندیوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک اہم مشترکہ اعلامیے میں پاکستان، سعودی عرب، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ اور قطر کے وزرائے خارجہ نے ان اسرائیلی اقدامات کو ’غیر قانونی اور امتیازی‘ قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران کا اسرائیل پر جوابی حملہ، ایرانی میزائلوں سے یروشلم میں تباہی کے مناظر

مشترکہ اعلامیے میں خاص طور پر المسجدِ اقصیٰ میں مسلمانوں کے داخلے پر لگائی گئی رکاوٹوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

اعلامیے کے مطابق، رمضان المبارک کے مقدس مہینے سمیت مسلسل 30 دن تک مسجدِ اقصیٰ کے دروازے بند رکھنا ایک ایسا سنگین اقدام ہے جو نہ صرف مذہبی آزادی کی نفی ہے بلکہ علاقائی اور عالمی امن کے لیے بھی انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

وزرائے خارجہ نے عیسائی مذہبی رہنماؤں کو ‘چرچ آف دی ہولی سیپولہرے’ میں ’پام سنڈے‘ کی عبادات سے روکنے کے اسرائیلی عمل کو بھی بین الاقوامی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔

وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ مسجدِ اقصیٰ اور الحرم الشریف کا پورا 144 دونم پر مشتمل احاطہ خالصتاً مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے، اور بین الاقوامی قوانین کے تحت اس کے انتظام و انصرام کی واحد مجاز نگران اردن کی وزارتِ اوقاف ہے۔

اعلامیے میں دو ٹوک الفاظ میں کہا گیا کہ اسرائیل بطور قابض قوت مقبوضہ یروشلم پر کوئی قانونی خود مختاری نہیں رکھتا، لہٰذا اسے شہر کے مقدس مقامات کے تاریخی ’اسٹیٹس کو‘ کو تبدیل کرنے کی کوششوں سے باز رہنا چاہیے۔

مزید پڑھیں:یروشلم پوسٹ کی رپورٹ جھوٹ ثابت،لنکڈن پروفائل شیخ نوید کی نکلی

مسلم ممالک نے اسرائیل سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر مسجدِ اقصیٰ کے تمام دروازے کھولے اور قدیم شہر (اولڈ سٹی) میں عائد کردہ تمام غیر قانونی پابندیاں ختم کرے تاکہ مسلمان اور عیسائی بلا رکاوٹ اپنی مذہبی رسومات ادا کر سکیں۔

وزرائے خارجہ نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں پر بھی زور دیا کہ وہ خاموشی توڑیں اور اسرائیل کو ان مسلسل خلاف ورزیوں سے روکنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *