وفاقی حکومت نے معاہدے کے برعکس سولر سسٹم سے بجلی بنانے والے صارفین کے لیے بلنگ کے طریقہ کار میں ترمیم کر دی ہے۔
اس نئے اقدام کے تحت بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں اضافی پیدا ہونے والی بجلی کو ’صفر‘ یونٹس تصور کیا جائے گا، جس کے باعث صارفین کو اس بجلی پر پہلے ملنے والا ریلیف حاصل نہیں ہو سکے گا۔
حکام کے مطابق یہ فیصلہ ان صارفین کے لیے خاص طور پر اہم ہے جو اپنی منظور شدہ گنجائش سے زیادہ سولر پینلز نصب کر کے اضافی بجلی پیدا کر رہے تھے۔
حکومت نے ایسے کیسز میں ’ایکسپورٹ ایم ڈی آئی چیک‘ نافذ کر دیا ہے، جس کے ذریعے صارفین کی اضافی بجلی کی پیداوار کو مانیٹر کیا جائے گا اور اس کے مطابق بلنگ کی جائے گی۔
نئے طریقہ کار کے تحت جب ایکسپورٹ ایم ڈی آئی چیک لاگو ہوگا تو اضافی سولر پینلز سے پیدا ہونے والی بجلی پر دیا جانے والا ہر قسم کا مالی فائدہ مکمل طور پر ختم ہو جائے گا ، اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی صارف اپنی ضرورت سے زیادہ بجلی پیدا کرتا ہے اور وہ بجلی قومی گرڈ میں شامل بھی ہو جاتی ہے، تب بھی اسے نیٹ میٹرنگ پالیسی کے تحت اس کا کوئی معاوضہ یا ریلیف نہیں دیا جائے گا۔
مزید برآں، حکومتی فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ ایکسپورٹ ایم ڈی آئی ریڈنگ کو بنیاد بنا کر اضافی جنریشن پر دی جانے والی سہولت کو ختم کر دیا گیا ہے یعنی اب صرف وہی بجلی ریلیف کے لیے اہل ہو گی جو صارف کے منظور شدہ لوڈ یا لائسنس کے مطابق پیدا کی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ اگر کوئی صارف اپنے منظور شدہ جنریشن لائسنس سے زیادہ سولر پینلز نصب کرتا ہے تو اس صورت میں نہ صرف اضافی پیداوار پر ریلیف ختم ہو جائے گا بلکہ اس کے ایکسپورٹ یونٹس بھی اس سہولت سے محروم رہیں گے۔
اس اقدام کا مقصد بجلی کے نظام کو متوازن رکھنا اور غیر منظور شدہ پیداوار کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔
یہ تبدیلیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ملک میں سولر توانائی کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور بڑی تعداد میں صارفین نیٹ میٹرنگ کے ذریعے اپنی بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ اضافی بجلی فروخت بھی کر رہے ہیں۔
نئے قواعد کے بعد اس شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والے صارفین کو اپنی تنصیبات اور پیداواری صلاحیت کو حکومتی پالیسی کے مطابق ترتیب دینا ہوگا تاکہ کسی بھی ممکنہ مالی نقصان سے بچا جا سکے۔