عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے حکومت پاکستان کو پیٹرولیم مصنوعات پر عوامی سطح پر عام سبسڈی دینے سے روک دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ سبسڈی کو صرف مستحق اور کم آمدن والے طبقے تک محدود رکھا جائے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ پیٹرول پر طویل عرصے تک سبسڈی جاری رکھنے سے ملکی معیشت پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے جس سے مالی خسارہ بڑھنے کا خدشہ ہے۔ اسی تناظر میں عالمی ادارے نے حکومت کو متبادل حکمت عملی اختیار کرنے کی تجویز دی ہے۔
آئی ایم ایف نے سفارش کی ہے کہ پیٹرول سستا کرنے کے بجائے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت دی جانے والی مالی امداد میں اضافہ کیا جائے، تاکہ براہِ راست مستحق افراد کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ تجویز کے مطابق اس پروگرام کے وظیفے میں 5 ہزار روپے تک اضافہ کیا جائے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان تجاویز کی روشنی میں جنوری 2027 سے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے مستحقین کو 19 ہزار 500 روپے تک ادائیگی کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ وفاقی حکومت نے اس حوالے سے فنڈز میں اضافے کی یقین دہانی بھی کروا دی ہے۔
دوسری جانب حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کے بعد کھاد اور زرعی ادویات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کا معاملہ فی الحال مؤخر کر دیا گیا ہے، تاکہ زرعی شعبے پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔
حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ براہِ راست نقد امداد کے ذریعے غریب طبقے کو مہنگائی کے اثرات سے زیادہ مؤثر انداز میں بچایا جا سکتا ہے، جبکہ عمومی سبسڈی کے مقابلے میں یہ طریقہ زیادہ پائیدار اور ہدفی ہے۔