بلوچستان میں سیکیورٹی اداروں کی جانب سے دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ایک بڑی کارروائی کے دوران افغان دہشتگرد حبیب اللہ کو گرفتار کر لیا گیا، حکام کے مطابق ملزم نے دورانِ تفتیش پاکستان میں سیکیورٹی اہلکاروں پر حملوں میں ملوث ہونے کا اعتراف بھی کیا ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران ضیا لانگو نے بتایا کہ گرفتار دہشتگرد کا تعلق تحریک طالبان افغانستان سے ہے اور وہ ٹی ٹی پی کے ساتھ مل کر بلوچستان میں کارروائیاں کر رہا تھا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ملزم کا بھائی شیر افغان بھی کالعدم تنظیم سے وابستہ ہے اور افغانستان کے علاقے پکتیکا کا رہائشی ہے۔
وزیر داخلہ بلوچستان کے مطابق دہشتگرد گروپ کی قیادت “مسلم” نامی شخص کر رہا تھا، جبکہ گرفتار ملزم نے پاک افغان جھڑپوں کے دوران سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کا بھی اعتراف کیا،انہوں نے کہا کہ حبیب اللہ اس سے قبل بھی ایک ماہ قید میں رہ چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے ایک منظم سازش کے تحت پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے متعدد بار افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کے ٹھوس شواہد عالمی برادری کے سامنے رکھے ہیں اور افغان حکام سے اس حوالے سے اقدامات کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
ضیا لانگو نے واضح کیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا، انہوں نے کہا کہ پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کو بھرپور جواب دیا جائے گا، تاہم افغانستان کے عوام کے ساتھ پاکستان کی کوئی دشمنی نہیں ہے۔
اس موقع پر ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ نے بتایا کہ بلوچستان میں دہشتگردوں کے خلاف ہزاروں انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشنز کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب تک 9 لاکھ 60 ہزار غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کو ملک بدر کیا جا چکا ہے اور صوبے بھر میں ون ڈاکومنٹ رجیم نافذ کر دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق گرفتار دہشتگرد کو کچلاک کے علاقے سے دوبارہ حراست میں لیا گیا، جس سے سرحد پار دہشتگردی کے روابط بے نقاب ہوئے۔ مزید بتایا گیا کہ ٹی ٹی اے اور ٹی ٹی پی مل کر بلوچستان میں دہشتگردی کی کارروائیاں کر رہے ہیں، جبکہ اس گروپ کے دیگر ارکان کے گرد بھی گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کے مطابق کارروائیاں تیزی سے جاری ہیں اور جلد مزید اہم گرفتاریاں متوقع ہیں، جس سے صوبے میں امن و امان کی صورتحال مزید بہتر ہونے کی امید ہے۔