ورلڈ کپ خطرے میں: ایران کا امریکہ میں میچز کھیلنے سے انکار، میکسیکو منتقلی کا مطالبہ

ورلڈ کپ خطرے میں: ایران کا امریکہ میں میچز کھیلنے سے انکار، میکسیکو منتقلی کا مطالبہ

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری فوجی کشیدگی اب کھیلوں کے میدان تک پہنچ گئی ہے جہاں ایرانی وزیرِ کھیل احمد دونیامالی نے واضح کیا ہے کہ اگر فیفا ورلڈ کپ کے میچز امریکہ سے میکسیکو منتقل نہ کیے گئے تو ایران کی ٹورنامنٹ میں شرکت غیر یقینی ہوگی۔

تفصیلات لے مطابق گزشتہ روز ترکیہ کی ایک نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی وزیر کا کہنا تھا کہ ایرانی فٹ بال فیڈریشن نے عالمی فٹ بال گورننگ باڈی (فیفا) سے اپنے میچز کی منتقلی کی باضابطہ درخواست کی ہے، تاہم ابھی تک اس کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر فیفا یہ درخواست قبول کر لیتی ہے تو ایران کی ورلڈ کپ میں شرکت یقینی ہو جائے گی، ورنہ موجودہ حالات میں امریکہ کا سفر کرنا ممکن نہیں لگتا۔

یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب رواں برس 28 فروری سے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کا آغاز ہوا، جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جنگی صورتحال پیدا ہو چکی ہے اور کئی مسلم ممالک بھی اس کی زد میں ہیں۔ ایشیا سے ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے والی ایرانی ٹیم کے تمام گروپ میچز امریکہ میں شیڈول ہیں، لیکن جاری جنگ کے باعث ایران نے وہاں کھیلنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔

کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ ایران اپنے میچوں کے لیے امریکہ تو آئے لیکن وہ وہاں ایرانی ٹیم کی جان اور حفاظت کی ضمانت نہیں دے سکتے۔

صدر ٹرمپ کے اس بیان پر ایرانی فٹ بال کے سربراہ مہدی تاج نے سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ جب میزبان ملک کا صدر ہی ٹیم کی حفاظت یقینی بنانے سے قاصر ہو تو ہم اپنی قومی ٹیم کو خطرے میں ڈال کر امریکہ کا سفر ہرگز نہیں کریں گے۔

دوسری جانب ایرانی فٹ بال ٹیم نے سوشل میڈیا پر ایک پرعزم پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی بھی طاقت ایران کو ورلڈ کپ سے باہر نہیں کر سکتی۔ ایران اس وقت فیفا کے حتمی جواب کا انتظار کر رہا ہے اور اس کا مطالبہ ہے کہ فٹ بال کو جنگ اور سیاست سے الگ رکھتے ہوئے کھلاڑیوں کے تحفظ کے لیے میچز میکسیکو منتقل کیے جائیں۔

مزید پڑھیں: ایتھلیٹ ثمر خان کا منفرد اعزاز، 300 کلومیٹر طویل آرکٹک مہم مکمل کرنے والی پہلی پاکستانی بن گئیں

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *