مشرقِ وسطٰی میں جنگ کے بادلوں کو کم کرنے اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی کوششوں کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے ’فیصلہ کن‘ ثالثی کا آغاز کر رکھا ہے۔
پاکستان انفرادی طور پر نہیں بلکہ دیگر دوست ممالک کے ساتھ مل کر دن رات اس مقصد کے لیے کوشاں ہے کہ خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچایا جا سکے۔
اس سلسلے میں پاکستان نے امریکا سمیت تمام متعلقہ ممالک کے ساتھ زبردست سفارتی رابطے قائم کر رکھے ہیں، جبکہ دوسری جانب ایران کے اعلیٰ حکام اور باشعور عوام نے پاکستان کی ان امن کوششوں کو انتہائی خوش آئند قرار دیتے ہوئے مثبت توقعات وابستہ کر رکھی ہیں۔
عالمی امور کے ماہرین اور تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اس وقت مذاکراتی عمل ایک انتہائی نازک موڑ پر ہے اور اس دوران سعودی عرب پر کسی بھی قسم کے میزائل حملے نہایت غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے کسی بھی اقدام سے یہ صاف ظاہر ہوگا کہ کچھ عناصر امن کے دشمن ہیں اور وہ خطے میں مذاکرات کے بجائے کشیدگی بڑھانا چاہتے ہیں۔
عوامی اور سفارتی سطح پر یہ واضح کیا جا رہا ہے کہ اس طرح کی جارحیت خود ایران کے اپنے مفادات کے خلاف ہوگی، کیونکہ اس سے پاکستان جیسے مخلص ملک کی جانب سے جاری امن کوششوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچنے کا احتمال ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کی قیادت اس بات پر زور دے رہی ہے کہ خلیجی ممالک خصوصاً سعودی عرب پر حملے امن کوششوں کے لیے انتہائی نقصاندہ ہیں، اس لیے ہر ممکنہ کوشش کی جائے تاکہ عالمی برادری کو یہ باور کرایا جا سکے کہ کوئی بھی نیا جارحانہ قدم نہ صرف علاقائی امن کو داؤ پر لگائے گا بلکہ ایران کے اندرونی مفادات کو بھی شدید زک پہنچائے گا۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس کی امن کوششوں کو کمزور کرنا دراصل پوری خطے کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ اپریل 2026 کے ان حالات میں پاکستان کی یہ فعال سفارت کاری عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ تمام فریقین ایسے اقدامات سے گریز کریں گے جو امن کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہوں۔
واضح رہے کہ پاکستان روایتی طور پر مشرقِ وسطٰی میں برادر اسلامی ممالک اور عالمی طاقتوں کے درمیان ایک ‘پل’ کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ حالیہ کشیدگی، جو کہ بحری گزرگاہوں اور علاقائی خودمختاری کے گرد گھوم رہی ہے، نے پاکستان کو ایک بار پھر مرکزی ثالث کے طور پر ابھارا ہے۔
سعودی عرب کی سلامتی پاکستان کے لیے ریڈ لائن کی حیثیت رکھتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد نے واضح پیغام دیا ہے کہ کسی بھی قسم کی غلط مہم جوئی ناصرف سفارتی عمل کو ختم کر دے گی بلکہ پورے خطے کو ایک ایسی جنگ میں دھکیل دے گی جس سے واپسی ممکن نہ ہوگی۔