وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کی جنگ بندی درخواست پر اچھی خبر جلد متوقع ہے: سی این این

وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کی  جنگ بندی درخواست پر اچھی خبر جلد متوقع  ہے:  سی این این

عالمی خبر رساں ادارے سی این این کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی درخواست پر مثبت پیش رفت ہوئی ہے اور بہت جلد کسی بڑی “اچھی خبر” کی توقع کی جا رہی ہے۔

سی این این کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کا ‘دو ہفتوں کا امن پلان’ اس وقت واشنگٹن اور تہران دونوں جگہوں پر زیرِ بحث ہے اور سفارتی حلقوں میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ اس تجویز نے جنگ کے خطرے کو ٹالنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے صدر ٹرمپ کو ڈیڈ لائن میں توسیع اور ایرانی قیادت کو آبنائے ہرمز کھولنے کی مخلصانہ اپیل کو عالمی سطح پر ایک “گیم چینجر” کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس اور ایرانی حکام کے درمیان پسِ پردہ رابطوں میں پاکستان کی اس مصالحتی کوشش کو ایک ایسی بنیاد قرار دیا جا رہا ہے جس پر دونوں فریقین متفق ہو سکتے ہیں۔ سی این این کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف کی دانشمندانہ سفارت کاری نے ایک ایسے وقت میں راستہ نکالا ہے جب دنیا ایک بڑے فوجی تصادم کے دہانے پر کھڑی تھی۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ چند گھنٹوں میں ڈیڈ لائن میں توسیع اور عارضی جنگ بندی کا باضابطہ اعلان سامنے آ سکتا ہے۔

قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان نے انتہائی دانشمندی اور اثر و رسوخ کے ساتھ سفارتی محاذ سنبھالا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے باضابطہ درخواست کی ہے کہ وہ ایران کو دی گئی ڈیڈ لائن میں دو ہفتوں کی توسیع کریں تاکہ جاری مذاکراتی عمل کو کسی منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ سفارت کاری کو موقع دے کر ہی کسی بڑے تصادم کو روکا جا سکتا ہے۔

اسی مصالحتی جذبے کے تحت، وزیراعظم نے ایرانی بھائیوں سے بھی پرزور اپیل کی ہے کہ وہ جذبہ خیر سگالی کے طور پر آبنائے ہرمز کو 14 روز کے لیے کھول دیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس اقدام کا مقصد عالمی تجارت کی بحالی اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو فوری طور پر کم کرنا ہے تاکہ عام انسانوں کو ریلیف مل سکے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے تمام متحارب فریقوں کو دعوت دی ہے کہ وہ طویل مدتی امن اور استحکام کی خاطر دو ہفتوں کے لیے مکمل جنگ بندی پر عمل کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ انسانیت کو جنگ کی ہولناکیوں سے بچانے کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ ہر جگہ سفارت کاری کے ذریعے مسائل کا مستقل حل تلاش کیا جائے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *