پاکستان کی اعلیٰ قیادت، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی انتھک کوششوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان ایک بڑے ممکنہ تصادم کو ٹال دیا گیا ہے، جس کے بعد پاکستان کا عالمی سطح پر گراف بلندیاں چھونے لگا ہے۔
اس تاریخی سفارتی کامیابی کا اعتراف خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایرانی وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی کا سرکاری بیان شیئر کر کے کیا ہے، جس میں پاکستانی قیادت کو مشرقِ وسطٰی کو تباہ کن جنگ سے بچانے پر زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی درخواست اور پاکستان کی جانب سے پیش کردہ فریم ورک کے نتیجے میں امریکی صدر نے ایران کی 10 نکاتی تجویز کو مذاکرات کی بنیاد کے طور پر قبول کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اس کے جواب میں امریکا نے 15 نکاتی مذاکراتی فارمولا پیش کیا ہے، جسے ایران نے مثبت قرار دیتے ہوئے 2 ہفتوں کے لیے جنگ بندی اور دفاعی کارروائیاں روکنے کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ اگر ایران پر حملے بند کیے جاتے ہیں تو ان کی مسلح افواج جوابی کارروائیاں بند کر دیں گی۔
معاہدے کے تحت ایران نے 2 ہفتوں کے لیے آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی محفوظ گزرگاہ فراہم کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم یہ عمل ایرانی مسلح افواج کے ساتھ تکنیکی رابطے اور مقررہ حدود کے اندر ممکن ہوگا۔
ایران کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے مستقل حل کی جانب ایک اہم قدم ہیں۔ عالمی مبصرین 8 اپریل 2026 کے اس معاہدے کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی سب سے بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں، جس نے دنیا کو ایک تیسری عالمی جنگ کے دہانے سے واپس کھینچ لیا ہے۔
گزشتہ کئی ہفتوں سے امریکا اور ایران کے درمیان تندوتیز بیانات اور حملوں کی دھمکیوں نے عالمی منڈیوں اور سیکیورٹی صورتحال کو مفلوج کر رکھا تھا۔ پاکستان نے اس بحران میں ایک ’نیوٹرل گراؤنڈ‘ فراہم کیا جہاں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے تہران اور واشنگٹن کے عسکری و سیاسی حلقوں کے ساتھ بیک وقت رابطوں نے برف پگھلانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
صدر ٹرمپ کا ایرانی وزیرِ خارجہ کے بیان کو شیئر کرنا اس بات کی علامت ہے کہ وائٹ ہاؤس اب پاکستان کے ثالثی کے کردار کو ناصرف تسلیم کرتا ہے بلکہ اس کی اہمیت کا بھی قائل ہے۔