ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے دو ہفتے کی جنگ بندی اور مذاکرات پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ دشمن کو مجرمانہ جنگ میں ناقابل تردید، تاریخی اور عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ، ایران نے امریکا کو 10 نکاتی منصوبہ قبول کرنے پر مجبور کردیا ، تجاویز میں امریکا کی جانب سے عدم جارحیت کی ضمانت دینا شامل ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران نے ابتدا سے ہی فیصلہ کیا تھا کہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک دشمن کو پچھتاوے اور مایوسی کی کیفیت میں نہ پہنچا دیا جائے اور ملک کے خلاف طویل المدتی خطرات ختم نہ ہو جائیں۔
بیان کے مطابق آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کو جاری رکھنے کی تجویز شامل ہے، افزودگی کو قبول کرنے، تمام بنیادی اور ثانوی پابندیوں کو ختم کرنے کی تجویز شامل ہیں۔
سلامتی کونسل اور بورڈ آف گورنرز کی تمام قراردادوں کو ختم کرنے تجویز شامل ہیں، اس کے علاوہ ایران کو معاوضہ ادا کرنے، خطے سے امریکی افواج کے انخلاء کی بھی تجویز شامل ہے ، لبنان کے خلاف تمام محاذوں پر جنگ روکنے کی تجویز بھی شامل کی گئی ہے۔
سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے فتح پر عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے عوام، سیاسی جماعتوں اور تمام طبقات سے اپیل کی ہے کہ وہ قومی اتحاد برقرار رکھیں اور اس عمل کی حمایت کریں، اگر مذاکرات میں دشمن کی پسپائی سیاسی کامیابی میں تبدیل نہ ہوئی تو ایران اپنے مطالبات پورے ہونے تک میدان میں لڑائی جاری رکھے گا۔
ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے مزید کہا کہ ہماری انگلیاں ٹریگر پر ہیں، دشمن نے معمولی غلطی بھی کی تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔
دوسری جانب ایران نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ کے ساتھ اب دس نکاتی ایجنڈے پر مذاکراتی عمل 15 روز کے لیے اسلام آباد میں جمعے سے شروع ہوگا، جس میں ضرورت پڑنے پر مزید توسیع بھی کی جا سکے گی۔