کرسی خطرے میں ؟ 24 ڈیموکریٹس ارکان نے ٹرمپ کی برطرفی کا مطالبہ کردیا

کرسی خطرے میں ؟ 24 ڈیموکریٹس ارکان نے ٹرمپ کی برطرفی کا مطالبہ کردیا

امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق  کانگریس کے 24 سے زائد ڈیموکریٹ ارکان نے ایران کے خلاف بڑھتی جارحیت و دھمکیوں کے باعث امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ان کے عہدے سے معزول کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

نیوز ویب سائٹ “ایکسیس” کے مطابق صدر ٹرمپ کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر یہ تحریر کیے جانے کے بعد کہ “آج رات ایک پوری تہذیب ختم ہو جائے گی اور اسے کبھی بحال نہیں کیا جا سکے گا”، انہیں عہدے سے ہٹانے کے لیے آئین کی 25 ویں ترمیم کو فعال کرنے کے مطالبات زور پکڑ گئے۔

صدرٹرمپ  نے یہ بیان ایران کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے دی گئی مہلت ختم ہونے سے چند گھنٹے قبل جاری کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : جنہیں مشرقِ وسطیٰ سے تیل چاہیے وہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے میں کردار ادا کریں یا امریکی تیل خریدیں ، ٹرمپ

کانگریس میں مواخذے کی روایتی کارروائی کے علاوہ صدر کو ہٹانے کا ایک تیز تر راستہ 25 ویں آئینی ترمیم ہے، اس ترمیم کی چوتھی شق کے مطابق صدر کو اس صورت میں عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے جب یہ سمجھا جائے کہ وہ “اپنے عہدے کے اختیارات اور فرائض انجام دینے کے قابل نہیں رہے”۔

تاہم اس شق پر پہلے کبھی عمل درآمد نہیں کیا گیا اور موجودہ حالات میں بھی اس کا اطلاق مشکل نظر آتا ہے، کیونکہ اس کے لیے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور کابینہ کے ارکان کی اکثریت کو سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کے صدور کو اس حوالے سے تحریری اعلامیہ پیش کرنا ہوگا۔

25 ویں ترمیم کیا ہے؟

امریکی آئین کی 25ویں ترمیم 1967 میں جان ایف کینیڈی کے قتل کے بعد نافذ کی گئی تھی جس کا مقصد ہنگامی حالات میں اقتدار کی منتقلی کا طریقہ کار طے کرنا تھا۔

اس ترمیم کے تحت صدر کے انتقال، بیماری یا استعفے پر نائب صدر ملک کا اقتدار سنبھالتا ہے۔ علاوہ ازیں نائب صدر اور کابینہ کی اکثریت صدر کو نااہل بھی قرار دے سکتی ہے جس کی توثیق کانگریس کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : امریکی صدر نے ایران پر حملے کا فیصلہ وزیردفاع پیٹ ہیگستھ کے کھاتے میں ڈال دیا

بطور صدر ٹرمپ اس پر اعتراض کر سکتے ہیں، لیکن نظریاتی طور پر نائب صدر اور کابینہ کے ارکان ان کے اعتراض کو کالعدم قرار دے سکتے ہیں، جس کے بعد حتمی فیصلہ کانگریس کے ہاتھ میں ہوگا، اگر یہ آخری صورتحال پیدا ہوتی ہے تو قانون سازوں کے پاس ووٹنگ کے لیے 21 دن کا وقت ہوگا اور اس دوران نائب صدر صدارتی فرائض سنبھالیں گے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *