شیو سینا کے رکن اسمبلی سنجے راوت نے کہا ہے کہ پاکستان کو دنیا بھر میں ایک مرتبہ پھر ایسے ملک کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جو ثالثی کے عمل میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی پالیسیوں پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ اس صورتحال میں اپنا مؤقف واضح کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
سنجے راوت نے مزید کہا ہے کہ پاکستان کے لیے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شکریہ ادا کیا گیا ہے، جس پر عالمی سطح پر حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس پیش رفت کے نتیجے میں اسلام آباد میں ممکنہ امن مذاکرات کی راہ ہموار ہو گئی ہے، جس سے عالمی نقشے پر پاکستان اور خصوصاً اسلام آباد کی اہمیت میں اضافہ ہوگا۔
انہوں نے مودی سرکار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہی اسلام آباد، جہاں بھارت کی جانب سے بھارتی پرچم لہرانے کی دھمکیاں دی جارہی تھیں اب ممکنہ طور پر عالمی سطح کے مذاکرات کا مرکز بن گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت وزیراعظم نریندر مودی ملک کے مختلف علاقوں جیسے کیرالہ، آسام، تمل ناڈو اور مغربی بنگال میں انتخابی مہم میں مصروف ہیں، جبکہ ناقدین کے مطابق پس پردہ ہونے والی پیش رفت پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جا رہی۔
سنجے راوت نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے علاوہ اسرائیل اور ایران کی جانب سے بھی پاکستان کے کردار کو سراہا گیا ہے، اور تینوں ممالک کی قیادت اسلام آباد میں بیٹھ کر بات چیت کر سکتی ہے، جس سے پاکستان اور اسلام آباد کی بین الاقوامی حیثیت مزید مضبوط ہوگی۔