امریکا اب فیصلہ کرے: جنگ بندی یا اسرائیل کے ذریعے کشیدگی میں اضافہ, ایران

امریکا اب فیصلہ کرے: جنگ بندی یا اسرائیل کے ذریعے کشیدگی میں اضافہ, ایران

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ دنیا لبنان میں جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی جاری حملوں کو دیکھ رہی ہے اور یہ بھی مشاہدہ کر رہی ہے کہ آیا امریکا اپنے وعدوں پر قائم رہتا ہے یا نہیں۔

تفصیلات کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کی شرائط واضح اور دوٹوک ہیں، اور اب فیصلہ امریکا کو کرنا ہے۔ ان کے مطابق امریکا کو یہ انتخاب کرنا ہوگا کہ وہ واقعی جنگ بندی چاہتا ہے یا اسرائیل کے ذریعے جنگ کو جاری رکھنا چاہتا ہے، کیونکہ دونوں چیزیں ایک ساتھ ممکن نہیں۔

عراقچی نے شہباز شریف کا جنگ بندی سے متعلق بیان بھی شیئر کیا اور اس پر حمایت کا اظہار کیا۔ دوسری جانب ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے عاصم منیر سے رابطہ کیا، جس میں انہیں اسرائیل کی جانب سے مبینہ جنگ بندی خلاف ورزیوں سے آگاہ کیا گیا۔

ادھر ایرانی پارلیمان کے اسپیکر نے دعویٰ کیا ہے کہ مذاکرات شروع ہونے سے قبل ہی تین اہم نکات کی خلاف ورزی کی جا چکی ہے، جس سے امن عمل پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔

علاوہ ازیں ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ ایران کو اسلحہ فراہم کرنے والے ممالک پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا جا سکتا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ بندی کے باوجود خطے میں صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے اور بڑی طاقتوں کے درمیان اعتماد کا فقدان برقرار ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا امن مذاکرات میں شریک ہوگا، جے ڈی وینس، وٹکوف اور کشنر اسلام آباد جائیں گے، وائٹ ہاؤس

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *