پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ملک بھر میں غیر قانونی اور غیر تصدیق شدہ سموں کے خلاف کاروائی کا اعلان کرتے ہوئے انہیں بلاک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پی ٹی اے کے تازہ ترین اعلامیے کے مطابق، ایسے تمام موبائل نمبرز جو ایکسپائر شدہ شناختی کارڈز یا انتقال کر جانے والے افراد کے نام پر چل رہے ہیں، انہیں کسی بھی وقت بلاک کیا جا سکتا ہے۔
پی ٹی آے کی جانب سے واضح ہدایات میں کہا گیا ہے کہ انتقال کر جانے والے افراد کی سمیں: کسی بھی وفات پا جانے والے شخص کے نام پر رجسٹرڈ سم کو کسی بھی وقت بند کر دیا جائے گا، اس لیے ورثاء کو چاہیے کہ وہ سم کو اپنے نام پر منتقل کروائیں۔
ایکسپائر شناختی کارڈ: جن صارفین کے شناختی کارڈز (CNIC) کی میعاد ختم ہو چکی ہے، ان کی سمیں بلاک کر دی جائیں گی۔ ایک بار سم بلاک ہونے کے بعد وہ نمبر دوبارہ ملنا ممکن نہیں ہوگا۔
شناختی کارڈ کی تجدید: پی ٹی اے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے موبائل نمبرز کی بندش سے بچنے کے لیے فوری طور پر نادرا (NADRA) سے اپنے شناختی کارڈ کی تجدید کروائیں۔
پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ یہ سخت اقدامات ٹیلی کام سیکٹر میں سیکیورٹی کو بہتر بنانے اور سموں کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے اٹھائے جا رہے ہیں۔ پی ٹی اے نے نادرا سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ صارفین کے شناختی کارڈ سے متعلق مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے تاکہ شہریوں کی موبائل سروس متاثر نہ ہو۔
صارفین کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر انہوں نے دی گئی ہدایات پر عمل نہ کیا تو ان کی موبائل سروس کسی بھی وقت معطل ہو سکتی ہے، جس کی تمام تر ذمہ داری خود صارف پر ہوگی۔
مزید پڑھیں: آسان اقساط پر اسمارٹ فونز منصوبہ،وزارت آئی ٹی، پی ٹی اے اور ٹیلی کام آپریٹرز میں مشاورت مکمل

