امریکا اور ایران کے درمیان 2 ہفتے کی تاریخی جنگ بندی اور تصادم کو روکنے میں پاکستان کے کلیدی کردار پر جہاں دنیا بھر کے رہنما اسلام آباد کی تعریف کر رہے ہیں، وہیں بھارت کی وزارتِ خارجہ نے اپنے سرکاری بیان میں پاکستان کا نام لینے یا اس کی کوششوں کا ذکر کرنے سے مکمل گریز کیا ہے۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں جنگ بندی کے فیصلے کا خیر مقدم تو کیا گیا ہے، لیکن پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد میں ہونے والے ممکنہ مذاکرات پر معنی خیز خاموشی اختیار کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد میں دُنیا کی بڑی سفارتی بیٹھک، مذاکراتی وفود آج پہنچیں گے، امریکا، ایران پاکستانی میزبانی میں آمنے سامنے
بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ہم جنگ بندی کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ اس سے مغربی ایشیا میں دیرپا امن قائم ہوگا‘۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس جنگ نے عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی اور تجارتی نظام کو درہم برہم کر دیا تھا، لہٰذا اب یہ توقع ہے کہ آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمد و رفت مکمل آزادی کے ساتھ بحال ہوگی۔
برٹش براڈکاسٹنگ کارپوریشن (بی بی سی) نے لکھا ہے کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں بھارتی حکومت خاموش ہے، وہیں بھارتی اپوزیشن، سابق سفارت کار اور صحافی مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں۔
کانگریس رہنما راشد علوی نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’جو کارنامہ پاکستان نے انجام دیا، وہ انڈیا کو کرنا چاہیے تھا‘۔ سابق خارجہ سیکرٹری نوپما مینن راؤ نے بھی تسلیم کیا کہ پاکستان ایک ایسے مؤثر چینل کے طور پر ابھرا ہے جس نے بمباری کی ڈیڈ لائن میں توسیع کروا کر سفارتی راستہ کھولا، جس کی اہمیت کو کم نہیں کیا جا سکتا۔
نامور تجزیہ کار اشوک سوئن نے مودی حکومت کو آئینہ دکھاتے ہوئے لکھا کہ ’مودی پاکستان کو تنہا کرنا چاہتے تھے مگر آج انڈیا خود تنہا کھڑا ہے‘ جبکہ پاکستان کو امریکا، چین اور ایران سب کا اعتماد حاصل ہے۔
عالمی امور کی صحافی انجنا شنکر نے بھی اسے پاکستان کا بڑا کارنامہ قرار دیا کہ ٹرمپ کی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے چند گھنٹے قبل اسلام آباد نے جنگ رکوائی۔ 9 اپریل 2026 کی یہ سفارتی پیش رفت جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن اور سفارتی اثر و رسوخ کی نئی کہانی سنا رہی ہے۔
مزید پڑھیں:فیصلوں کا اختیار فریقین کے پاس ہے، پاکستان محض سہولت کار ہے، پاکستانی سفیررضوان سعید

