پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ملک بھر میں موبائل فون سروسز کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنانے اور ٹیلی کام نظام کو مزید محفوظ بنانے کے لیے صارفین کو اہم ہدایات جاری کر دی ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق تمام صارفین اپنی موبائل فون سروسز کی مسلسل دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے اپنے قومی شناختی کارڈ کو بروقت اپڈیٹ کریں۔ اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ زیادہ المیعاد (ایکسپائر) شناختی کارڈز اور ایسے موبائل کنکشنز جو کسی دوسرے شخص کے نام پر رجسٹرڈ ہیں، انہیں کسی بھی وقت بلاک کیا جا سکتا ہے۔
پی ٹی اے کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام صارفین کے بہترین مفادات کے تحفظ اور ملک میں قابلِ اعتماد ٹیلی کام سروسز کی فراہمی کے عزم کے تحت اٹھایا گیا ہے۔
پی ٹی اے نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ پریشانی یا سم بلاک ہونے کی صورت میں پیدا ہونے والی تنگی سے بچنے کے لیے اپنے زائد المیعاد قومی شناختی کارڈ کی فوری تجدید کرائیں اور اپنی سموں کی ملکیت کو اپنے درست ڈیٹا کے مطابق درست کریں۔
ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ ٹیلی کام سروسز کی شفافیت اور سیکیورٹی کے لیے صارفین کا ڈیٹا اپ ٹو ڈیٹ ہونا لازمی ہے۔ آج 9 اپریل 2026 کو جاری ہونے والی اس ایڈوائزری کا مقصد صارفین کو پیشگی مطلع کرنا ہے تاکہ وہ نادرا کے ذریعے اپنے شناختی کارڈ کی تجدید کروا کر اپنی مواصلاتی سہولیات کو برقرار رکھ سکیں۔ ماہرین کے مطابق، اس اقدام سے غیر قانونی سموں کے استعمال میں کمی آئے گی اور سائبر کرائمز پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔
پاکستان میں موبائل سموں کی بائیو میٹرک تصدیق کا نظام پہلے ہی نافذ ہے، تاہم سکیورٹی آڈٹ کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ بہت سے صارفین کے شناختی کارڈز کی میعاد ختم ہونے کے باوجود ان کی سمیں فعال ہیں، جو کہ سیکیورٹی پروٹوکولز کی خلاف ورزی ہے۔
پی ٹی اے کا حالیہ کریک ڈاؤن اسی سلسلے کی کڑی ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ہر فعال سم ایک درست اور قانونی شناختی دستاویز سے منسلک ہو۔ اس سے قبل بھی پی ٹی اے ‘فوت شدہ’ افراد کے نام پر چلنے والی سموں کو بلاک کرنے کی مہم چلا چکا ہے۔