امریکا میں پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانا کوئی معجزہ نہیں بلکہ یہ ایک طویل اور مسلسل سفارتی عمل کا نتیجہ ہے۔
امریکی ٹی وی کوانٹرویو میں رضوان سعید شیخ نے کہا کہ پاکستان بنیادی طور پر سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے، تصفیہ طلب معاملات کے حل کی ذمہ داری متعلقہ فریقین کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سفارت کاری کے اس عمل میں پاکستان کو سعودی عرب، مصر، ترکیہ اور دیگر شراکت داروں کی حمایت و معاونت حاصل رہی۔
رضوان سعید نے مزید کہا کہ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو تمام متعلقہ فریقین نے مثبت انداز میں لیا اور ایک تعمیری جذبے کے تحت جنگ بندی اور مذاکرات کے انعقاد کی راہ ہموار کی گئی۔
سفیر پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ محض مذاکرات کا آغاز ہی ایک بڑی کامیابی ہے اور پاکستان اس بات کے لیے تیار ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کسی بھی ممکنہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے جو بھی کردار ادا کرنا پڑے، وہ طویل عرصے تک نبھایا جائے گا۔
واضح رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے بعد، مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے آج پاکستان کے وفاقی دارالحکومت میں اہم ترین مذاکرات ہورہے ہیں۔
یہ سفارتی معرکہ 28 فروری کو شروع ہونے والی اس جنگ کا نتیجہ ہے جس نے عالمی معیشت اور توانائی کے نظام کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ پاکستان کی ثالثی کے نتیجے میں 8 اپریل کو جنگ بندی ممکن ہوئی، جسے وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان اور عالمِ اسلام کے لیے ’فخر کا لمحہ‘ قرار دیا ہے۔