امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری سفارتی کوششوں اور ممکنہ معاہدے کی اہمیت کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اس تنازع میں پہلے ہی ’فتح‘ حاصل کر چکا ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے پس منظر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ مذاکرات کے نتائج اب ان کے لیے زیادہ معنی نہیں رکھتے کیونکہ واشنگٹن نے میدانِ جنگ میں اپنی برتری ثابت کر دی ہے۔
صدر ٹرمپ نے سخت لہجے میں کہا کہ ’معاہدہ ہو یا نہ ہو، امریکا اپنی پوزیشن سے پیچھے نہیں ہٹے گا‘۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی حملوں کے نتیجے میں ایران کی اعلیٰ قیادت کا خاتمہ ہو چکا ہے اور اس کی بحری، فضائی اور دفاعی صلاحیتوں کو اس حد تک کمزور کر دیا گیا ہے کہ وہ اب کوئی بڑا خطرہ نہیں رہا۔
ٹرمپ نے زور دیا کہ ان کا اصل مقصد ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا ہے اور وہ اس مقصد کے حصول کے لیے کسی بھی حد تک جائیں گے۔
اسٹریٹجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے بتایا کہ علاقے میں بچھائی گئی سمندری بارودی سرنگوں کی صفائی کے لیے امریکی افواج نے جدید سازوسامان کے ساتھ آپریشن شروع کر دیا ہے اور امید ہے کہ یہ اہم آبی گزرگاہ جلد ہی عالمی تجارت کے لیے دوبارہ کھل جائے گی۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے چین کو ایک بار پھر خبردار کیا کہ اگر بیجنگ نے ایران کو ہتھیار فراہم کرنے کی غلطی کی تو اس کے نتائج بہت سنگین ہوں گے۔ صدر ٹرمپ کے ان بیانات نے اسلام آباد میں جاری نازک سفارتی عمل پر سوالیہ نشانات لگا دیے ہیں، جبکہ ماہرین اسے ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کی اسٹریٹجی قرار دے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب بین الاقوامی برادری اسلام آباد مذاکرات سے امن کی امید لگائے بیٹھی ہے۔ ٹرمپ کی ‘فتح’ کا دعویٰ دراصل ان کی اس پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ کسی بھی معاہدے سے قبل حریف کو مکمل طور پر کمزور دکھانا چاہتے ہیں۔
آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں کو شدید متاثر کیا ہے، اس لیے اس کی بحالی امریکہ کے لیے اولین ترجیح ہے۔ دوسری جانب چین کی ممکنہ شمولیت اس علاقائی تنازع کو عالمی سرد جنگ میں بدل سکتی ہے، جس کا ادراک کرتے ہوئے ٹرمپ نے پیشگی وارننگ جاری کی ہے۔